مسئلہ ۸: آنکھوں کے ڈھیلے اور پپوٹوں کی اندرونی سَطح کا دھوناکچھ درکار نہیں بلکہ نہ چاہیئے کہ مُضر ہے۔ (1)
مسئلہ ۹: مونھ دھوتے وقت آنکھیں زور سے مِیچ لِیں کہ پَلک کے مُتّصل ایک خَفیف سی تحریر بند ہوگئی اور اس پر پانی نہ بہا اور وہ عادۃً بند کرنے سے ظاہر رہتی ہو تو وُضو ہو جائیگا مگر ایسا کرنا نہیں چاہیئے اور اگر کچھ زیادہ دُھلنے سے رہ گیا تو وُضو نہ ہو گا۔ (2)
مسئلہ ۱۰: آنکھ کے کوئے (3) پر پانی بہانا فرض ہے مگر سرمہ کا جرم کوئے یا پَلک میں رہ گیا اور وُضو کرلیا اور اِطلاع نہ ہوئی اور نماز پڑھ لی تو حَرج نہیں نماز ہوگئی، وُضو بھی ہو گیا اور اگر معلوم ہے تو اسے چُھڑا کر پانی بہانا ضرور ہے۔
مسئلہ ۱۱: پَلک کا ہر بال پُورا دھونا فرض ہے اگر اس میں کیچڑ وغیرہ کوئی سَخْت چیز جم گئی ہو تو چُھڑا نا فرض ہے۔ (4)
۲۔ہاتھ دھونا: اس حُکْم میں کہنیاں بھی داخِل ہیں۔ (5)
مسئلہ ۱۲: اگر کُہنیوں سے ناخن تک کوئی جگہ ذَرّہ بھر بھی دھلنے سے رہ جائے گی وُضو نہ ہو گا۔ (6)
مسئلہ ۱۳: ہر قسم کے جائز ، ناجائز گہنے ، چَھلّے، انگوٹھیاں، پُہنچیاں (7) ، کنگن، کانچ، لاکھ وغیرہ کی چوڑیاں، ریشم کے لچھّے وغیرہ اگر اتنے تنگ ہوں کہ نیچے پانی نہ بَہے تو اُتار کر دھونا فرض ہے اور اگرصرف ہِلا کر دھونے سے پانی بہ جاتا ہو تو حرکت دینا ضرور ی ہے اور اگر ڈِھیلے ہوں کہ بے ہلائے بھی نیچے پانی بہ جائے گا تو کچھ ضرور ی نہیں۔ (8)
مسئلہ ۱۴: ہاتھوں کی آٹھوں گھائیاں (9) ،اُنگلیوں کی کروٹیں، ناخنوں کے اندر جو جگہ خالی ہے، کلائی کا ہر بال جڑ سے نوک تک ان سب پر پانی بہ جانا ضروری ہے اگر کچھ بھی رہ گیا یا بالوں کی جڑوں پر پانی بہ گیا کسی ایک بال کی نوک پر نہ بہا وُضو نہ ہوا مگر ناخنوں کے اندر کا میل معاف ہے۔ (10)
مسئلہ ۱۵: بجائے پانچ کے چھ انگلیاں ہیں تو سب کا دھونا فرض ہے اور اگر ایک مُونڈھے پر دو ہاتھ نکلے تو جو پُورا ہے