Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
289 - 432
    مسئلہ ۲: مونچھوں یا بھووں یا بچی (1) کے بال گھنے ہوں کہ کھال باِلکل نہ دکھائی دے تو جِلد کا دھونا فرض نہیں بالوں کا دھونا فرض ہے اور اگر ان جگہوں کے بال گھنے نہ ہوں تو جِلد کا دھونا بھی فرض ہے۔ (2) 

    مسئلہ ۳: اگر مونچھیں بڑھ کر لَبوں کو چھپالیں تو اگرچہ گھنی ہوں،مونچھیں ہٹا کر لَب کا دھونا فرض ہے۔ (3) 

    مسئلہ ۴: داڑھی کے بال اگر گھنے نہ ہوں تو جلد کا دھونا فرض ہے اور اگر گھنے ہوں تو گلے کی طرف دبانے سے جس قدر چہرے کے گردے میں آئیں ان کا دھونا فرض ہے اور جڑوں کا دھونا فرض نہیں اور جو حلقے سے نیچے ہوں ان کا دھونا ضرور نہیں اور اگر کچھ حصہ میں گھنے ہوں اور کچھ چَھدرے، تو جہاں گھنے ہوں وہاں بال اور جہاں چھدرے ہیں اس جگہ جلد کا دھونا فرض ہے۔ (4) 

    مسئلہ ۵: لَبوں کا وہ حصہ جو عادۃً لب بند کرنے کے بعد ظاہر رہتا ہے ،اس کا دھونا فرض ہے تو اگر کوئی خوب زور سے لب بند کرلے کہ ا س میں کاکچھ حصہ چُھپ گیا کہ اس پر پانی نہ پہنچا، نہ کُلّی کی کہ دُھل جاتا تو وُضو نہ ہوا ،ہاں وہ حصہ جو عادۃً مونھ بند کرنے میں ظاہر نہیں ہوتا اس کا دھونا فرض نہیں۔ (5) 

    مسئلہ ۶: رُخسار اور کان کے بیچ میں جو جگہ ہے جسے کنپٹی کہتے ہیں اس کا دھونا فرض ہے ہاں اس حصہ میں جتنی جگہ داڑھی کے گھنے بال ہوں وہاں بالوں کا اور جہاں بال نہ ہوں یا گھنے نہ ہوں تو جلد کا دھونا فرض ہے۔ (6) 

    مسئلہ ۷: نَتھ کا سوراخ اگر بند نہ ہو تو اس میں پانی بہانا فرض ہے اگر تنگ ہو تو پانی ڈالنے میں نتھ کو حرکت دے ورنہ ضرو ر ی نہیں۔ (7)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ چند بال جو نیچے کے ہونٹ اور ٹھوڑی کے بیچ میں ہوتے ہیں۔ 

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۱، ص۲۱۴. 

و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في معنی الاشتقاق... إلخ، ج۱، ص۲۲۰. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۱، ص۴۴۶. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱، ص۲۱۴، ۴۴۶. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في معنی الاشتقاق... إلخ، ج۱، ص۲۱۹. 

و ''الفتاوی الرضویۃ''، ، ج۱، ص۲۱۴. 

6۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۱، ص۲۱۶. 

و''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطہارۃ، مطلب في معنی الاشتقاق... إلخ، ج۱، ص۲۲۰. 

7۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۱، ص۴۴۵.
Flag Counter