کرلیتا ہے پھر نماز کو کھڑا ہوتا ہے تو فرشتہ اس کے پیچھے کھڑا ہو کر قراء ت سنتا ہے پھر اس سے قریب ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنا مونھ اس کے مونھ پر رکھ دیتا ہے۔'' (1)
مشایخِ کِرا م فرماتے ہیں کہ:'' جو شخص مِسواک کا عادی ہو مرتے وقت اسے کلمہ پڑھنا نصیب ہوگا۔ اور جو افیون کھاتا ہو مرتے وقت اسے کلمہ نصیب نہ ہوگا۔''
اَحکامِ فِقہی: وہ آیہ کریمہ جو اوپر لکھی گئی اس سے یہ ثابت کہ وُضو میں چار فرض ہیں:
(۱) مونھ دھونا
(۲) کُہنیوں سمیت دونوں ہاتھوں کا دھونا
(۳) سر کا مسح کرنا
(۴) ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں کا دھونا
فائدہ: کسی عُضْوْ کے دھونے کے یہ معنی ہیں کہ اس عُضْوْ کے ہرحصہ پر کم سے کم دو بوند پانی بہ جائے۔ بھیگ جانے یا تیل کی طرح پانی چُپَڑلینے یا ایک آدھ بوند بہ جانے کو دھونا نہیں کہیں گے نہ اس سے وُضو یا غسل ادا ہو (2) ، اس امر کا لحاظ بہت ضروری ہے لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے اور نمازیں اکارت جاتی ہیں۔ بدن میں بعض جگہیں ایسی ہیں کہ جب تک ان کاخاص خیال نہ کیا جائے ان پر پانی نہ بہے گا جس کی تشریح ہر عُضْوْ میں بیان کی جائے گی ۔کسی جگہ َموضَعِ حَدَث پر تری پہنچنے کو مسح کہتے ہیں۔
۱۔ مونھ دھونا: شروعِ پیشانی سے (یعنی جہاں سے بال جمنے کی انتہا ہو) ٹھوڑی (3) تک طول میں اور عرض میں ایک کان سے دوسرے کان تک مونھ ہے اس حد کے اندر جِلد کے ہر حصہ پر ایک مرتبہ پانی بہانا فرض ہے۔ (4)
مسئلہ ۱: جس کے سر کے اگلے حصہ کے بال گرگئے یا جَمے نہیں اس پر وہیں تک مونھ دھونا فرض ہے جہاں تک عادۃً بال ہوتے ہیں اور اگر عادۃً جہاں تک بال ہوتے ہیں اس سے نیچے تک کسی کے بال جمے تو ان زائد بالوں کا جڑ تک دھونا فرض ہے۔ (5)