حدیث ۱۴: طَبَرانی باسناد حسن حضرتِ علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: '' اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میری امّت پر شاق ہو گا تو میں ان کو ہر وُضو کے ساتھ مِسواک کرنے کا امر فرما دیتا۔'' (1) (یعنی فرض کر دیتا اور بعض روایتوں میں لفظ فرض بھی آیا ہے) ۔ (2)
حدیث ۱۵: اسی طَبَرانی کی ایک روایت میں ہے کہ'' سیّد عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کسی نماز کے لیے تشریف نہ لے جاتے تاوقتیکہ مِسواک نہ فرمالیتے۔'' (3)
حدیث ۱۶: صحیح مسلِم میں عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی ، کہ ''حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم باہر سے جب گھر میں تشریف لاتے تو سب سے پہلا کام مِسواک کرنا ہوتا۔'' (4)
حدیث ۱۷: امام احمد ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: '' مِسواک کا التزام رکھو کہ وہ سبب ہے مونھ کی صفائی اور رب تبارک وتعالیٰ کی رضا کا۔'' (5)
حدیث ۱۸: ابو نُعَیم جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی ،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''دو رکعتیں جو مِسواک کر کے پڑھی جائیں افضل ہیں بے مِسواک کی ستّر رکعتوں سے۔'' (6)
حدیث ۱۹: اور ایک روایت میں ہے کہ: '' جو نماز مِسواک کر کے پڑھی جائے وہ اس نماز سے کہ بے مِسواک کیے پڑھی گئی ستّر حصّے افضل ہے۔'' (7)
حدیث ۲۰: مِشکوٰۃ میں عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی کہ: ''دس چیزیں فطرت سے ہیں ( یعنی ان کا حُکْم ہر شریعت میں تھا) مونچھیں کترنا، داڑھی بڑھانا، مِسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن تراشنا، اُنگلیوں کی چنٹیں دھونا، بغل کے بال دور کرنا، موئے زیرناف مونڈنا، استنجا کرنا، کُلّی کرنا۔ (8)
حدیث ۲۱: حضرتِ علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ''بندہ جب مِسواک