Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
286 - 432
    حدیث ۸: مسلِم میں حضرتِ امیر المومنین فاروقِ اعظم عُمر بن خَطّاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تم میں سے جو کوئی وُضو کرے اور کامل وُضو کرے پھر پڑھے۔
اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ
اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں جس دروازے سے چاہے داخِل ہو۔'' (1) 

    حدیث ۹: تِرمذی نے حضرتِ عبدُاﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:'' جو شخص وُضو پر وُضو کرے اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی۔'' (2) 

    حدیث ۱۰: ابنِ خُزیمہ اپنی صحیح میں راوی کہ عبدُ اﷲ بن بُرَیدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں:'' ایک دن صبح کو حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرتِ بِلال کوبلایا اور فرمایا:'' اے بِلال کس عمل کے سبب جنت میں تو مجھ سے آگے آگے جارہا تھا میں رات جنت میں گیا تو تیرے پاؤں کی آہٹ اپنے آگے پائی۔'' بِلال رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: ''یا رسول اللہ! میں جب اذان کہتا اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھ لیتا اور میرا جب کبھی وُضو ٹوٹتا وُضو کر لیا کرتا۔ حضو ر صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا اسی سبب سے۔'' (3) 

    حدیث ۱۱: تِرمذی و ابنِ ماجہ سعید بن زید رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ــ''جس نے بسم اللہ نہ پڑھی اس کا وُضو نہیں یعنی وضوئے کامل نہیں اس کے معنے وہ ہیں جو دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا۔ (4) 

    حدیث ۱۲: دارقُطنی اور بَیہقی اپنی سُنَن میں عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی ،کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:'' جس نے بسم اللہ کہہ کر وُضو کیا سر سے پاؤں تک اس کا سارا بدن پاک ہو گیا اور جس نے بغیر بسم اللہ وُضو کیا اس کا اتنا ہی بدن پاک ہو گا جتنے پر پانی گزرا۔'' (5) 

    حدیث ۱۳: امام بُخاری و مسلِم ابو ہُریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جب کوئی خواب سے بیدار ہو تو وُضو کرے اور تین بار ناک صاف کرے کہ شیطان اس کے نتھنے پر رات گزارتا ہے۔'' (6)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الطھارۃ با ب الذکر المستحب عقب الوضوء، الحدیث: ۲۳۴، ص۱۴۴. 

2۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الطھارۃ، باب ماجا ء أنہ یصلي الصلوات بو ضوء واحد، الحدیث:۶۱، ج۱، ص ۱۲۴. 

3۔۔۔۔۔۔ صحیح ابن خزیمۃ، باب استحبا ب الصلاۃ عند الذنب... إلخ، الحدیث: ۱۲۰۹، ج۲، ص۲۱۳. 

4۔۔۔۔۔۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب الطھارۃ، باب ماجا ء في التسمیۃ في الوضوء، الحدیث: ۳۹۸، ج۱، ص۲۴۲. 

5۔۔۔۔۔۔ ''سنن الدار قطني''، کتاب الطھارۃ، باب التسمیۃ علی الوضوء، الحدیث: ۲۲۸، ج۱، ص۱۰۸. 

6۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب بدء الخلق، باب صفۃ ابلیس وجنودہ، الحدیث: ۳۲۹۵، ج۲، ص۴۰۳.
Flag Counter