Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
285 - 432
کے بعد دوسری نماز کا انتظار اس کا ثواب ایسا ہے جیسا کفار کی سرحد پر حمایت بلادِ اسلام کے لیے گھوڑا باندھنے کا۔'' (1) 

    حدیث ۳: اِمام مالِک و نَسائی عبداﷲ صنابحی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول ا للہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: ''مسلمان بندہ جب وُضو کرتا ہے تو کُلّی کرنے سے مونھ کے گناہ گر جاتے ہیں اور جب ناک میں پانی ڈال کر صاف کیا تو ناک کے گناہ نکل گئے اور جب مونھ دھویا تو اس کے چِہرہ کے گناہ نکلے یہاں تک کہ پلکوں کے نکلے اور جب ہاتھ دھوئے تو ہاتھوں کے گناہ نکلے یہاں تک کہ ہاتھوں کے ناخنوں سے نکلے اور جب سر کا مسح کیا تو سر کے گناہ نکلے یہاں تک کہ کانوں سے نکلے اور جب پاؤں دھوئے تو پاؤں کی خطائیں نکلیں یہاں تک کہ ناخنوں سے پھر اس کا مسجد کو جانا اور نماز مزید براں۔ (2) 

    حدیث ۴: بزّار نے باسناد حسن روایت کی کہ'' حضرتِ عثمانِ غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے غلام حمران سے وُضو کے لیے پانی مانگا اور سردی کی رات میں باہر جانا چاہتے تھے حمران کہتے ہیں: میں پانی لایا، انہوں نے مونھ ہاتھ دھوئے تو میں نے کہا اﷲ آپ کو کفایت کرے رات تو بہت ٹھنڈی ہے اس پر فرمایا کہ: میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو بندہ وضوئے کامل کرتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیتا ہے۔'' (3) 

    حدیث ۵: طَبَرانی نے اوسط میں حضرت امیر المومنین مولیٰ علی کرّم اﷲ تعالیٰ وجہہ سے روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا'' جو سَخْت سردی میں کامل وُضو کرے ا س کے لیے دونا ثواب ہے۔'' (4) 

    حدیث ۶: امام احمد بن حنبل نے اَنَس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی حضور سیّدِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو ایک ایک بار وُضو کرے تو یہ ضرور ی بات ہے اور جو دو دو بار کرے اس کو دونا ثواب اور جو تین تین بار دھوئے تویہ میرا اور اگلے نبیوں کا وُضو ہے۔'' (5) 

    حدیث ۷: صحیح مسلِم میں عُقبہ بن عامِر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو مسلمان وُضو کرے اور اچھا وُضو کرے پھر کھڑا ہو اور باطن و ظاہرسے متوجہ ہو کر دو رکعت نمازپڑھے اس کے لیے جنت واجب ہوتی ہے۔'' (6)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الطھارۃ، باب فضل إسباغ الوضوء علی المکارہ، الحدیث: ۲۵۱، ص۱۵۱. 

2۔۔۔۔۔۔ ''سنن النسائي''، کتاب الطھارۃ، باب مسح الاذنین مع الرأس... إلخ، الحدیث: ۱۰۳، ص۲۵. 

3۔۔۔۔۔۔ ''البحر الزخار المعروف بمسند البزار''، مسند عثمان بن عفان، الحدیث: ۴۲۲، ج۲، ص۷۵. 

4۔۔۔۔۔۔ '' المعجم الأوسط '' للطبراني، باب المیم، الحدیث: ۵۳۶۶، ج۴، ص۱۰۶. 

5۔۔۔۔۔۔ '' المسند '' للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن عمر بن الخطاب، الحدیث: ۵۷۳۹، ج۲، ص۴۱۷. 

6۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الطھارۃ، باب الذکر المستحب عقب الوضوء، الحدیث:۲۳۴، ص۱۴۴.
Flag Counter