| بہارِشریعت حصّہ دوم (2) |
اِساءَ ت: جس کا کرنا بُرا ہو اور نادراً کرنے والا مستحقِ عِتاب اور اِلتزامِ فعل پر استحقاقِ عذاب۔ یہ سنّتِ مؤ کدہ کے مقابل ہے۔
مَکروہِ تَنزِیہی: جس کا کرنا شرع کو پسند نہیں مگر نہ اس حد تک کہ اس پر وعیدِ عذاب فرمائے ۔یہ سنّتِ غیر مؤکدہ کے مقابل ہے۔
خِلافِ اَولیٰ: وہ کہ نہ کرنا بہتر تھا ، کیا توکچھ مضایقہ و عتاب نہیں، یہ مستحب کا مقابل ہے۔ ان کے بیان میں عبارتیں مختلف ملیں گی مگر یہی عطرِ تحقیق ہے۔وللہ الحمد حمدًا کثیرًا مبارکًا فیہ مبارکًا علیہ کما یحب ربنا و یرضٰی۔
وُضو کا بیان
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوۡا وُجُوۡہَکُمْ وَاَیۡدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوۡا بِرُءُ وۡسِکُمْ وَ اَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیۡنِ ؕ ) ـ1ـ
یعنی اے ایمان والو جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو (اور وضو نہ ہو) تو اپنے مونھ اور کُہنیوں تک ہاتھوں کو دھوؤ اور سروں کا مسح کرو اور ٹخنوں تک پاؤں دھوؤ۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ فضائلِ وُضو میں چند اَحادیث ذِکر کی جائیں پھر اُس کے متعلق اَحکام فِقہی کا بیان ہو۔
حدیث ۱: امام بُخاری وا مام مسلِم ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی ،حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:''قیامت کے دن میری امت اس حالت میں بلائی جائے گی کہ مونھ اور ہاتھ پاؤں آثارِ وُضوسے چمکتے ہوں گے تو جس سے ہو سکے چمک زیادہ کرے۔'' (2)
حدیث ۲: صحیح مسلِم میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ حضور سیّدِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کِرام سے ارشاد فرمایا: ''کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جس کے سبب اﷲ تعالیٰ خطائیں محو فرما دے اور درجات بلند کرے۔ عرض کی ہاں یا رسول اللہ! فرمایا: جس وقت وُضو ناگوار ہوتا ہے اس وقت وضوئے کامل کرنا اور مسجدوں کی طرف قدموں کی کثرت اور ایک نمازــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ پ۶، المآئدۃ: ۶. 2۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الوضوء، باب فضل الوضوء... إلخ، الحدیث: ۱۳۶،ج۱، ص۷۱.