(۱) اس کتاب میں حتَّی الوَسع یہ کوشش ہو گی کہ عبارت بہت آسان ہو کہ سمجھنے میں دقت نہ ہو اور کم علم اور عورتیں اور بچے بھی اس سے فائدہ حاصل کرسکیں۔ پھر بھی علم بہت مشکل چیز ہے یہ مُمکِن نہیں کہ علمی دشواریاں بالکل جاتی رہیں ضرور بہت مَواقِع ایسے بھی رہیں گے کہ اہلِ علم سے سمجھنے کی حاجت ہوگی کم از کم اتنا نفع ضرور ہو گا کہ اس کا بیان انھیں متنبہ کریگا اور نہ سمجھنا سمجھ والوں کی طرف رجوع کی توجہ دلائے گا۔
(۲) اس کتاب میں مسائل کی دلیلیں نہ لکھی جائیں گی کہ اوّل تو دلیلوں کاسمجھنا ہر شخص کا کام نہیں، دوسرے دلیلوں کی وجہ سے اکثرایسی الجھن پڑ جاتی ہے کہ نفسِ مسئلہ سمجھنا دشوار ہوجاتاہے لہٰذاہر مسئلے میں خالص منقح حُکْم بیان کر دیا جائے گا اور اگر کسی صاحب کو دلائل کا شوق ہو تو فتاویٰ رضویہ شریف کا مطالعہ کریں کہ اُس میں ہر مسئلہ کی ایسی تحقیق کی گئی ہے جس کی نظیر آج دنیا میں موجود نہیں اور اس میں ہزار ہا ایسے مسائل ملیں گے جن سے علما کے کان بھی آشنا نہیں۔
(۳) اس کتاب میں حتَّی الوَسع اختلافات کا بیان نہ ہوگا کہ عوام کے سامنے جب دو مختلف باتیں پیش ہوں تو ذہن متحیر ہو گا کہ عمل کس پر کریں اور بہت سے خواہش کے بندے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جس میں اپنا فائدہ دیکھتے ہیں اُسے اختیار کر لیتے ہیں ،یہ سمجھ کر نہیں کہ یہی حق ہے بلکہ یہ خیال کر کے کہ اس میں اپنا مطلب حاصل ہو تا ہے پھر جب کبھی دوسرے میں اپنا فائدہ دیکھا تو اُسے اختیار کر لیا اور یہ ناجائز ہے کہ اتباعِ شریعت نہیں بلکہ اتباعِ نفس ہے لہٰذا ہر مسئلہ میں مفتیٰ بہ صحیح اَصح راجح قول بیان کیا جائے گا کہ بلا دِقت ہر شخص عمل کرسکے۔ اﷲ تعالیٰ توفیق دے اور مسلمانوں کو اس سے فائدہ پہنچائے اور اس بے بضاعت کی کوشش قبول فرمائے۔