Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
279 - 432
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم 

الحمد للہ الواحد الاحد الصمد۔ المتفرد فی ذاتہ و صفاتہ فلا مثل لہ ولا ضد لہ ولم یکن لہ کفوا احد۔ والصلوۃ والسلام الاتمان الاکملان علی رسولہ و حبیبہ سید الانس و الجان۔ الذی انزل علیہ القراٰن۔ ھدی للناس و بینات من الھدیٰ والفرقان وعلٰی اٰلہ وصحبہ ما تعاقب الملوان۔ وعلٰی من تبعھم باحسان الٰی یوم الدین. لاسیما الائمۃ المجتھدین خصوصا علٰی افضلھم و اعلٰھم الامام الاعظم۔ والھمام الافخم۔ الذی سبق فی مضمار الاجتھاد کل فارس۔ وصدق علیہ لو کان العلم عند الثریا لنالہ رجل من ابناء فارس۔ سیدنا ابی حنیفۃ النعمان بن ثابت۔ ثبتنا اللہ بہ بالقول الثابت. فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ. واعطانا الحسنٰی وزیادۃ فاخرۃ. وعلینا لھم و بھم یا ارحم الرٰحمین. والحمد للہ رب العلمین۔
تمہید
    ایک وہ زمانہ تھا کہ ہر مسلمان اتنا علم رکھتاجو اس کی ضروریات کو کافی ہو بفضلہ تعالیٰ علماء بکثرت موجود تھے جو نہ معلوم ہوتا ان سے بآسانی دریافت کر لیتے حتیٰ کہ حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حُکْم فرمادیا تھا کہ ہمارے بازار میں وہی خریدوفروخت کریں جو دین میں فقیہ ہوں۔ (1)
 رواہ الترمذی عن العلاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب عن ابیہ عن جدہ ۔
پھر جس قدرعہدِ نبوت سے بُعد ہوتا گیا اسی قدر علم کی کمی ہوتی رہی اب وہ زمانہ آگیا کہ عوام تو عوام بہت وہ جو علما کہلاتے ہیں روزمرہ کے ضروری جزئیات حتّٰی کہ فرائض و واجبات سے ناواقف اور جتنا جانتے ہیں ا س پر بھی عمل سے منحرف کہ ان کو دیکھ کر عوام کو سیکھنے اور عمل کرنے کا موقع ملتا اسی قلّتِ علم و بے پروائی کا نتیجہ ہے کہ بہت ایسے مسائل کا جن سے واقف نہیں انکار کر بیٹھتے ہیں حالانکہ نہ خود علم رکھتے ہیں کہ جان سکیں نہ سیکھنے کا شوق کہ جاننے والوں سے دریافت کریں نہ علما کی خدمت میں حاضر رہتے کہ اُن کی صحبت باعثِ برکت بھی ہے اور مسائل جاننے کا ذریعہ بھی اور اُردو میں کوئی ایسی کتاب کہ سلیس،عام فہم،قابل اعتماد ہو اب تک شائع نہ ہوئی بعض میں بہت تھوڑے مسائل کہ روزمرّہ کی ضرور ی باتیں بھی ان میں کافی طور پر نہیں اور بعض میں اغلاط کی کثرت۔ لاجَرم ایک ایسی کتاب کی بے حد ضرورت ہے کہ کم پڑھے اس سے فائدہ اٹھائیں۔ لہٰذا فقیر بہ نظرِ خیر خواہی مسلمانان بمقتضائے الدین
النصح لکل مسلم۔
مَولیٰ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے اس امرِ اہم و اعظم کی طرف متوجہ ہوا حالانکہ میں خوب
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الوتر، باب ماجاء في فضل الصلاۃ علی النبي صلی اﷲ علیہ وسلم،الحدیث: ۴۸۷،ج۲ ،ص۲۹.
Flag Counter