Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دوم (2)
281 - 432
    ہر تھوڑی سی عقل والا بھی جانتا ہے کہ جو چیز جس کام کے لیے بنائی جائے اگر اُس کام میں نہ آئے تو بے کار ہے، تَو جو انسان اپنے خالق و مالک کو نہ پہچانے، اُس کی بندگی و عبادت نہ کرے وہ نام کا آدمی ہے حقیقۃً آدمی نہیں بلکہ ایک بے کار چیز ہے تَو معلوم ہوا کہ عبادت ہی سے آدمی، آدمی ہے اور اسی سے فلاحِ دنیوی و نجاتِ اخروی ہے لہٰذا ہر انسان کے لیے عبادت کے اقسام و ارکان و شرائط و احکام کا جاننا ضروری ہے کہ بے عِلم عمل نامُمکِن، اسی وجہ سے علم سیکھنا فرض ہے۔ عبادت کی اصل ایمان ہے بغیر ایمان عبادت بے کار، کہ جڑ ہی نہ رہی تو نتائج کہاں سے مترتب ہوں۔ درخت اسی وقت پھول پھل لاتا ہے کہ اس کی جڑ قائم ہو جڑ جدا ہونے کے بعد آگ کی خوراک ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کافر لاکھ عبادت کرے اس کا سارا کیا دھرا برباد اور وہ جہنم کا ایندھن۔ 

    قال اﷲ تعالیٰ:
     ( وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰی مَا عَمِلُوۡا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ہَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا ﴿۲۳﴾ ) ـ1ـ
کافروں نے جو کچھ کیا ہم اس کے ساتھ یوں پیش آئے کہ اسے بکھرے ہوئے ذرّے کی طرح کر دیا۔

    جب آدمی مسلمان ہو لیا تو اس کے ذمہ دو قسم کی عبادتیں فرض ہوئیں ایک وہ کہ جَوَارِح سے متعلق ہے دوسری جس کا تعلق قَلْب سے ہے۔ قسمِ دوم کے احکام و اصناف علمِ سلوک میں بیان ہوتے ہیں اور قسمِ اوّل سے فقہ بحث کرتا ہے اور میں اس کتاب میں بالفعل قسمِ اوّل ہی کو بیان کرناچاہتا ہوں پھر جس عبادت کو جَوَارِح یعنی ظاہرِ بدن سے تعلق ہے، دو قسم ہے یا وہ معاملہ کہ بندے اور خاص اُس کے رب کے درمیان ہے۔ بندوں کے باہمی کسی کام کا بناؤ بگاڑ نہیں عام اَزِیں کہ ہرشخص اس کی ادا میں مستقل ہو جیسے نماز پنجگانہ و روزہ کہ ہر ایک بلا شرکتِ غیرے انھیں ادا کر سکتا ہے خواہ دوسروں کی شرکت کی ضرورت ہو، جیسے نمازجماعت و جمعہ و عیدین میں کہ بے جماعت نا مُمکِن ہیں مگر اس سے سب کا مقصودمحض عبادتِ معبود ہے نہ کہ آپس کے کسی کام کا بنانا۔ 

    دوسری قسم وہ کہ بندوں کے باہمی تعلقات ہی کی اِصلاح اس میں مدّنظر ہے جیسے نکاح یا خریدوفروخت وغیرہا۔ پہلی قسم کو عبادات، دوسری کو معاملات کہتے ہیں۔ پہلی قسم میں اگرچہ کوئی دنیوی نفع بظاہر مترتب نہ ہو اور معاملات میں ضرور دنیوی فائدے ظاہر موجود ہیں بلکہ یہی پہلو غالب ہے مگر عبادت دونوں ہیں کہ معاملات بھی اگر خدا و رَسول کے حُکْم کے موافق کیے جائیں تو استحقاقِ ثواب ہے ورنہ گناہ اور سببِ عذاب۔ 

    قسم اول یعنی عبادات چار ہیں۔ نماز، روزہ، حج، زکوۃ، ان سب میں اہم و اعظم نماز ہے اور یہ عبادت اﷲ عزوجل کو بہت محبوب ہے لہٰذا ہم کو چاہیئے کہ سب سے پہلے اسی کو بیان کریں مگر نماز پڑھنے سے پہلے نمازی کا طاہِر اور پاک ہو لینا ضرور ہے کہ طہارت نماز کی کنجی ہے لہٰذا پہلے طہارت کے مسائل بیان کیے جائیں اس کے بعد نماز کے مسائل بیان ہوں گے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ پ۱۹، الفرقان: ۲۳.
Flag Counter