مگر اس کے کہنے کی یہ جگہ نہیں۔ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ہمیں یہ تعلیم نہیں دی، ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ اس موقع پر
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَال
کہیں۔ (1)
حدیث ۶: ترمذی و ابو داود نے ہلال بن یساف سے روایت کی، کہتے ہیں: ہم سالم بن عبید کے پاس تھے، ایک شخص کو چھینک آئی، اس نے کہا:
وَعَلَیْکَ وَ عَلٰی اُمِّکَ
اسے اس کا رنج ہوا۔ (کہ مجھے ایسا جواب کیوں دیا)۔ ابو داود کی روایت میں ہے، کہ اس نے کہا: میری ماں کا آپ نے ذکر نہ کیا ہوتا۔ نہ اچھا، نہ برا تو اچھا ہوتا۔ سالم نے کہا:میں نے وہی کہا جو رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا تھا۔ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے پاس ایک شخص کو چھینک آئی، اس نے کہا اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایا: وَعَلَیْکَ وَعَلٰی اُمِّکَ.جب کسی کو چھینک آئے تو کہے
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن
یَغْفِرُ اللہُ لِیْ وَلَکُمْ۔ (2)
حدیث ۷: صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے پاس دو شخصوں کو چھینک آئی۔ آپ نے ایک کو جواب دیا، دوسرے کو نہیں دیا۔ اس نے عرض کی، یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)!حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اُس کو جواب دیا اور مجھے نہیں دیا۔ ارشاد فرمایا:''اس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہا اور تو نے نہیں کہا۔'' (3)
حدیث ۸: صحیح مسلم میں ابوموسیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو فرماتے سنا ہے کہ ''جب کوئی چھینکے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے تو اسے جواب دو اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ نہ کہے تو اسے جواب مت دو۔'' (4)
حدیث ۹: صحیح مسلم میں سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے پاس ایک شخص کو چھینک آئی۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اس کے جواب میں یَرْحَمُکَ اللہ کہا، پھر دوبارہ چھینک آئی تو حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''اسے زکام ہوگیا ہے۔'' (5)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب، باب ما یقول العاطس اذا عطس، الحدیث:۲۷۴۷،ج۴،ص۳۳۹.
2۔۔۔۔۔۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب، باب ماجاء کیف یشمت العاطس، الحدیث:۲۷۴۹،ج۴،ص۳۳۹.
و''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب کیف تشمیت العاطس، الحدیث:۵۰۳۱،ج۴،ص۳۹۹.
3۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب لا یشمت العاطس اذا لم یحمد اللہ، الحدیث:۶۲۲۵،ج۴،ص۱۶۳.
4۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الزھد...إلخ، باب تشمیت العاطس...إلخ، الحدیث:۵۴۔(۲۹۹۲)،ص۱۵۹۶.
5۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق،الحدیث:۵۵۔(۲۹۹۳)،ص۱۵۹۶.