| بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16) |
جگہ جہاں قیام کا رواج ہے تو قیام کرنا چاہیے تاکہ ایک مسلم کو بغض و عداوت سے بچایا جائے۔ (1) (ردالمحتار)
چھینک اور جماہی کا بیان
حدیث ۱: صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''اﷲتعالیٰ کو چھینک پسند ہے اور جماہی ناپسند ہے۔ جب کوئی شخص چھینکے اور اَلْحَمْد لِلّٰہ کہے تو جو مسلمان اس کو سنے اس پر یہ حق ہے کہ یَرْحَمُکَ اللہ کہے اور جماہی شیطان کی طرف سے ہے، جب کسی کو جماہی آئے تو جہاں تک ہوسکے، اُسے دفع کرے کیونکہ جب جماہی لیتا ہے تو شیطان ہنستا ہے۔''(2)یعنی خوش ہوتا ہے کیونکہ یہ کسل اور غفلت کی دلیل ہے، ایسی چیز کو شیطان پسند کرتا ہے اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ ''جب وہ (ہا)کہتا ہے شیطان ہنستا ہے۔'' (3)
حدیث ۲: صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جب کسی کو چھینک آئے تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے اور اس کا بھائی یا ساتھ والا یَرْحَمُکَ اللہ کہے جب یہ یَرْحَمُکَ اللہ کہہ لے تو چھینکنے والا اس کے جواب میں یہ کہےیَھْدِیْکُمُ اللہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ۔''
(4)
ترمذی اوردارمی کی روایت میں ابوایوب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے ،کہ جب چھینک آئے تو یہ کہےاَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِ حَال ۔ (5)
حدیث ۳: طبرانی نے عبد اﷲبن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب کسی کو چھینک آئے تو
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
کہے۔'' (6) حدیث ۴: طبرانی ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایا:''جب کسی کو چھینک آئے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے تو فرشتے کہتے ہیں: رَبّ الْعَالَمِیْنَ اور اگر وہ رَبّ الْعَالَمِیْن کہتاہے تو فرشتے کہتے ہیں:رَحِمَکَ اللہ۔'' (7)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، باب الإستبراء وغیرہ،ج۹،ص۶۳۳. 2۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب اذا تثاوَبَ فلیضع یدہ علی فیہ،الحدیث:۶۲۲۶،ج۴،ص۱۶۳. 3۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''،کتاب بدء الخلق، باب صفۃ إبلیس وجنودہ، الحدیث:۳۲۸۹،ج۲،ص۴۰۲. و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الآداب،باب العطاس والتثاؤب،الحدیث:۴۷۳۲،ج۳،ص۲۴. 4۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب، باب اذا عطس کیف یشمت، الحدیث:۶۲۲۴،ج۴،ص۱۶۲. 5۔۔۔۔۔۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب، باب ماجاء کیف یشمت العاطس، الحدیث:۲۷۵۰،ج۴،ص۳۴۰. 6۔۔۔۔۔۔ ''المعجم الکبیر''،الحدیث:۱۰۳۲۶،ج۱۰،ص۱۶۲. 7۔۔۔۔۔۔ ''المعجم الکبیر''،الحدیث:۱۲۲۸۴،ج۱۱،ص۳۵۸.