Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
476 - 660
    اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ تیسری مرتبہ چھینک آئی تب حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ایسا فرمایا۔ (1) یعنی جب بار بار چھینک آئے تو جواب کی حاجت نہیں۔ 

    حدیث ۱۰: ترمذی و ابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو چھینک آتی تو مونھ کو ہاتھ یا کپڑے سے چھپالیتے اور آواز کو پست کرتے۔ (2) 

    حدیث ۱۱: صحیح مسلم میں ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ جب کسی کو جماہی آئے تو مونھ پر ہاتھ رکھ لے کیونکہ شیطان مونھ میں گھس جاتا ہے۔ (3) 

    حدیث ۱۲: طبرانی اوسط میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''سچی بات وہ ہے کہ اس وقت چھینک آجائے۔''(4)اور حکیم کی روایت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے یہ ہے کہ ''جب کوئی بات کی جائے اور چھینک آجائے تو وہ حق ہے۔''(5)اور ابو نعیم کی روایت انھیں سے ہے، کہ ''دعا کے وقت چھینک آجانا سچا گواہ ہے۔''(6) 

    حدیث ۱۳: بیہقی نے شعب الایمان میں عبادہ بن صامت و شداد بن اوس و واثلہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب کسی کو ڈکار یا چھینک آئے تو آواز کو بلند نہ کرے کہ شیطان کو یہ بات پسند ہے کہ ان میں آواز بلند کی جائے۔''(7) 

    مسئلہ ۱: چھینک کا جواب دینا واجب ہے، جبکہ چھینکنے والا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے اور اس کا جواب بھی فوراً دینا اور اس طرح جواب دینا کہ وہ سن لے، واجب ہے۔ جس طرح سلام کے جواب میں ہے یہاں بھی ہے۔ (8) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۲: چھینک کا جواب ایک مرتبہ واجب ہے، دوبارہ چھینک آئی اور اس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہا تو دوبارہ جواب واجب نہیں، بلکہ مستحب ہے۔ (9) (عالمگیری)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب، باب ماجاء کم یشمت العاطس، الحدیث:۲۷۵۳،ج۴،ص۳۴۲.

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق،باب ماجاء في خفض الصوت...إلخ، الحدیث:۲۷۵۴،ج۴،ص۳۴۳.

3۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الزھد...إلخ، باب تشمیت العاطس...إلخ، الحدیث:۵۷۔(۲۹۹۵)،ص۱۵۹۷.

4۔۔۔۔۔۔ ''المعجم الأوسط''، باب الجیم، الحدیث:۳۳۶۰،ج۲،ص۳۰۲.

5۔۔۔۔۔۔ ''نوادر الاصوال في احادیث الرسول''،ج۳،ص۵.

6۔۔۔۔۔۔ ''کنزالعمال''،کتاب الصحبۃ، رقم: ۲۵۵۲۰،ج۹،ص۶۸. 

7۔۔۔۔۔۔ ''شعب الإیمان''، باب في تشمیت العاطس، فصل في خفض الصوت بالعطاس، الحدیث:۹۳۵۵،ج۷،ص۳۲. 

8۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۳. 

9۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع في السلام،ج۵،ص۳۲۶.
Flag Counter