مسئلہ ۱۴: مصحف یعنی قرآن مجید کو بوسہ دینا بھی صحابہ کرام کے فعل سے ثابت ہے، حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ روزانہ صبح کو بوسہ دیتے تھے اور کہتے یہ میرے رب کا عہد اور اس کی کتاب ہے اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی مصحف کو بوسہ دیتے اور چہرے سے مس کرتے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: سجدہ تحیت یعنی ملاقات کے وقت بطورِ اکرام کسی کو سجدہ کرنا حرام ہے اور اگر بقصد عبادت ہو تو سجدہ کرنے والا کافر ہے کہ غیر خدا کی عبادت کفر ہے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: بادشاہ کو بروجہ تحیت سجدہ کرنا یا اس کے سامنے زمین کو بوسہ دینا کفر نہیں، مگر یہ شخص گنہگار ہو ااور اگر عبادت کے طور پر سجدہ کیا تو کفر ہے۔ عالم کے پاس آنے والا بھی اگر زمین کو بوسہ دے، یہ بھی ناجائز و گناہ ہے، کرنے والا اور اس پر راضی ہونے والا دونوں گنہگار ہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: ملاقات کے وقت جھکنا منع ہے۔ (4) (عالمگیری)یعنی اتنا جھکنا کہ حدِ رکوع تک ہوجائے۔
مسئلہ ۱۸: آنے والے کی تعظیم کے لیے کھڑا ہونا جائز بلکہ مندوب ہے، جبکہ ایسے کی تعظیم کے لیے کھڑا ہو جو مستحق تعظیم ہے، مثلاً عالم دین کی تعظیم کو کھڑا ہونا۔ کوئی شخص مسجد میں بیٹھا ہے یا قرآن مجید پڑھ رہا ہے اور ایسا شخص آگیا جس کی تعظیم کرنی چاہیے تو اس حالت میں بھی تعظیم کو کھڑا ہوسکتا ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ لوگ میرے لیے کھڑے ہوں اس کی یہ بات ناپسند و مذموم ہے۔ (6) (ردالمحتار)احادیث میں اسی قیام کی مذمت ہے یا اس قیام کو برا بتایا گیا ہے۔ جو اعاجم میں مروج ہے کہ سلاطین بیٹھے ہوتے ہیں اور اُس کے آس پاس تعظیم کے طور پر لوگ کھڑے رہتے ہیں، آنے والے کے لیے کھڑا ہونا اس قیام ممنوع میں داخل نہیں۔ قیام میلاد شریف کی ممانعت پر ان احادیث سے دلیل لانا جہالت ہے۔
مسئلہ ۲۰: جہاں یہ اندیشہ ہو کہ تعظیم کے لیے اگر کھڑا نہ ہوا تو اس کے دل میں بغض وعداوت پیدا ہوگا، خصوصاً ایسی