مسئلہ ۸: بوسہ دینا اگر بشہوت ہو تو ناجائز ہے اور اکرام و تعظیم کے لیے ہو تو ہوسکتا ہے۔ پیشانی پر بوسہ بھی انھیں شرائط کے ساتھ جائز ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی دونوں آنکھوں کے درمیان کو بوسہ دیا۔(1)اور صحابہ و تابعین رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین سے بھی بوسہ دینا ثابت ہے۔
مسئلہ ۹: بعض لوگ مصافحہ کرنے کے بعد خود اپنا ہاتھ چوم لیا کرتے ہیں یہ مکروہ ہے، ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ (2) (زیلعی)
مسئلہ ۱۰: عالمِ دین اور بادشاہ عادل کے ہاتھ کو بوسہ دینا جائز ہے، بلکہ اس کے قدم چومنا بھی جائز ہے۔ بلکہ اگر کسی نے عالمِ دین سے یہ خواہش کی کہ آپ اپنا ہاتھ یا قدم مجھے دیجیے کہ میں بوسہ دوں تو اس کے کہنے کے مطابق وہ عالم اپنا ہاتھ پاؤں بوسہ کے لیے اس کی طرف بڑھا سکتا ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: عورت نے عورت کے مونھ یا رخسارہ کو بوقتِ ملاقات یا بوقتِ رخصت بوسہ دیا، یہ مکروہ ہے۔ (4) (درمختار) مسئلہ ۱۲: عالم یا کسی بڑے کے سامنے زمین کو بوسہ دینا حرام ہے۔ جس نے ایسا کیا اور جو اس پر راضی ہوا، دونوں گنہگار ہوئے۔ (5) (زیلعی)
مسئلہ ۱۳: بوسہ کی چھ قسمیں ہیں:
(1) بوسہ رحمت، جیسے والدین کا اولاد کو بوسہ دینا۔
(2) بوسہ شفقت، جیسے اولاد کا والدین کو بوسہ دینا۔
(3) بوسہ محبت، جیسے ایک شخص اپنے بھائی کی پیشانی کو بوسہ دے۔
(4) بوسہ تحیت، جیسے بوقت ملاقات ایک مسلم دوسرے مسلم کو بوسہ دے۔
(5) بوسہ شہوت، جیسے مرد عورت کو بوسہ دے اور
(6) ایک قسم بوسہ دیانت ہے، جیسے حجر اسود کا بوسہ۔ (6) (زیلعی)