مسئلہ ۲: جس طرح فجر و عصر کے بعد مصافحہ کرنا جائز ہے دوسری نمازوں کے بعد بھی مصافحہ کرنا جائز ہے، کیونکہ اصل مصافحہ کرنا جائز ہے تو کسی وقت بھی کیا جائے جائز ہی ہے، جب تک شرع مطہر سے ممانعت ثابت نہ ہو۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: مصافحہ یہ ہے کہ ایک شخص اپنی ہتھیلی دوسرے کی ہتھیلی سے ملائے، فقط انگلیوں کے چھونے کا نام مصافحہ نہیں ہے۔ سنت یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا جائے اور دونوں کے ہاتھوں کے مابین کپڑا وغیرہ کوئی چیز حائل نہ ہو۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: مصافحہ کا ایک طریقہ وہ ہے جو بخاری شریف وغیرہ میں عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے، کہ ''حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کا دستِ مبارک ان کے دونوں ہاتھوں کے درمیان میں تھا۔''(3) یعنی ہر ایک کا ایک ہاتھ دوسرے کے دونوں ہاتھوں کے درمیان میں ہو۔ دوسرا طریقہ جس کو بعض فقہا نے بیان کیا اور اس کی نسبت بھی وہ کہتے ہیں کہ حدیث سے ثابت ہے، وہ یہ کہ ہر ایک اپنا داہنا ہاتھ دوسرے کے دہنے سے اور بایاں بائیں سے ملائے اور انگوٹھے کو دبائے کہ انگوٹھے میں ایک رگ ہے کہ اس کے پکڑنے سے محبت پیدا ہوتی ہے۔ (4)
مسئلہ ۵: مصافحہ مسنون یہ ہے کہ جب دو مسلمان باہم ملیں تو پہلے سلام کیا جائے اس کے بعد مصافحہ کریں۔ رخصت کے وقت بھی عموماً مصافحہ کرتے ہیں، اس کے مسنون ہونے کی تصریح نظر فقیر سے نہیں گزری۔ مگر اصل مصافحہ کا جواز (5) حدیث سے ثابت ہے تو اس کو بھی جائز ہی سمجھا جائے گا۔
مسئلہ ۶: معانقہ کرنا (6)بھی جائز ہے جبکہ خوف فتنہ اور اندیشہ شہوت نہ ہو۔ چاہیے کہ جس سے معانقہ کیا جائے وہ صرف تہبند یا فقط پاجامہ پہنے ہوئے نہ ہو، بلکہ کرتا یا اچکن بھی پہنے ہو یا چادر اوڑھے ہو یعنی کپڑا حائل ہو۔ (7) (زیلعی)حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے معانقہ کیا۔ (8)
مسئلہ ۷: بعد نماز عیدین مسلمانوں میں معانقہ کا رواج ہے اور یہ بھی اظہار خوشی کا ایک طریقہ ہے۔ یہ معانقہ بھی جائز ہے، جبکہ محل فتنہ نہ ہو مثلاً امرد خوبصورت سے معانقہ کرنا کہ یہ محل فتنہ ہے۔