Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
470 - 660
    حدیث ۲۲: بیہقی نے شعب الایمان میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہتے ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم مسجد میں بیٹھ کر ہم سے باتیں کرتے جب حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کھڑے ہوتے ہم بھی کھڑے ہو جاتے اور اتنی دیر کھڑے رہتے کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو دیکھ لیتے کہ بعض ازواج مطہرات کے مکان میں تشریف لے گئے۔ (1) 

    حدیث ۲۳: ترمذی و ابودا ودنے معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جس کی یہ خوشی ہو کہ لوگ میری تعظیم کے لیے کھڑے رہیں، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنائے۔''(2) 

    حدیث ۲۴: ابو داود نے ابوامامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم عصا پر ٹیک لگا کر باہر تشریف لائے۔ ہم حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے لیے کھڑے ہوگئے۔ ارشاد فرمایا:''اس طرح نہ کھڑے ہوا کرو جیسے عجمی کھڑے ہوا کرتے ہیں کہ ان میں کا بعض بعض دوسرے کی تعظیم کیا کرتا ہے۔''(3) 

یعنی عجمیوں کا کھڑے ہونے میں جو طریقہ ہے وہ قبیح و مذموم ہے، اس طرح کھڑے ہونے کی ممانعت ہے، وہ یہ ہے کہ اُمرا بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں اور کچھ لوگ بروجہ تعظیم ان کے قریب کھڑے رہتے ہیں۔ دوسری صورت عدم جواز کی وہ ہے کہ وہ خود پسند کرتا ہو کہ میرے لیے لوگ کھڑے ہوا کریں اور کوئی کھڑا نہ ہو تو برا مانے جیسا کہ ہندوستان میں اب بھی بہت جگہ رواج ہے کہ امیروں، رئیسوں، زمین داروں کے لیے ان کی رعایا کھڑی ہوتی ہے، نہ کھڑی ہو تو زدو کوب تک نوبت آتی ہے۔ ایسے ہی متکبرین و متجبرین کے متعلق معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ والی حدیث میں وعید آئی ہے(4)اور اگر ان کی طرف سے یہ نہ ہو بلکہ یہ کھڑا ہونے والا اس کو مستحق تعظیم سمجھ کر ثواب کے لیے کھڑا ہوتا ہے یا تواضع کے طور پر کسی کے لیے کھڑ ا ہوتا ہے تو یہ ناجائز نہیں بلکہ مستحب ہے۔ 

    مسئلہ ۱: مصافحہ سنت ہے اور اس کا ثبوت تواتر سے ہے اور احادیث میں اس کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ ایک حدیث یہ ہے کہ ''جس نے اپنے مسلمان بھائی سے مصافحہ کیا اور ہاتھ کو حرکت دی، اس کے تمام گناہ گرجائیں گے۔''جتنی بار ملاقات ہو ہر بار مصافحہ کرنا مستحب ہے۔ مطلقاً مصافحہ کا جواز یہ بتاتا ہے کہ نماز فجر و عصر کے بعدجو اکثر جگہ مصافحہ کرنے کا مسلمانوں میں رواج ہے یہ بھی جائز ہے اور بعض کتابوں میں جو اس کو بدعت کہا گیا، اس سے مراد بدعتِ حسنہ ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''شعب الإیمان''،باب في مقاربۃ وموادۃ أھل الدین، فصل في قیام المرء...إلخ،الحدیث:۸۹۳۰،ج۶،ص۴۶۷. 2۔۔۔۔۔۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب،باب ما جاء في کراھیۃ قیام الرجل للرجل،الحدیث:۲۷۶۴،ج۴ص۳۴۷.

3۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب الرجل یقوم للرجل یعظمہ بذلک،الحدیث:۵۲۳۰،ج۴،ص۴۵۸.

4۔۔۔۔۔۔ انظر:''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب فی قیام الرجل للرجل،الحدیث:۵۲۲۹،ج۴،ص۴۵۷.

5۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،باب الإستبراء وغیرہ،ج۹،ص۶۲۸.
Flag Counter