Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
468 - 660
    حدیث ۱۳: ترمذی نے اُم المومنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہ زید بن حارثہ رضی اللہ تعالٰی عنہ جب مدینہ میں آئے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)میرے مکان میں تشریف فرما تھے۔ انھوں نے آکر دروازہ کھٹکھٹایا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کپڑا گھسیٹتے ہوئے برہنہ یعنی بغیر چادر اوڑھے ہوئے چل دیے۔ واﷲ! میں نے کبھی اس کے پہلے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو برہنہ یعنی بغیر چادر اوڑھے کسی کے پاس جاتے نہیں دیکھا تھا اور نہ اس کے بعد کبھی اس طرح دیکھا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے انھیں گلے لگا یا اور بوسہ دیا۔ (1) 

    حدیث ۱۴: ابو داود نے اسید بن حضیر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ ایک انصاری شخص جن کی طبیعت میں مزاح تھا، وہ باتیں کررہے تھے اور لوگوں کو ہنسا رہے تھے۔ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ایک لکڑی سے ان کی کمر میں کونچا دیا۔ انھوں نے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)سے عرض کی، مجھے اس کا بدلہ دیجیے۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:بدلہ لے لو۔ انھوں نے کہا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)قمیص پہنے ہوئے ہیں، میرے بدن پر قمیص نہیں ہے۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے قمیص ہٹادی، وہ چپٹ گئے اور پہلو کو بوسہ دیا اور یہ کہا کہ میرا مقصد یہی تھا۔ (2) (بدلہ لینا مقصود نہ تھا) 

    حدیث ۱۵: ابو داود وبیہقی نے عامر شعبی سے مرسلاً روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے جعفر بن ابی طالب رضی اﷲتعالٰی عنہ کا استقبال کیا اور ان سے معانقہ فرمایا اور دونوں آنکھوں کے درمیان میں بوسہ دیا۔(3) 

    حدیث ۱۶: ابو داود نے زارع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں آیا تھا، یہ بھی اس وفد میں تھے، یہ کہتے ہیں جب ہم مدینہ میں پہنچے، اپنی منزلوں سے جلدی جلدی حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں حاضر ہوتے اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کے دستِ مبارک اور پائے مبارک کو بوسہ دیتے۔ (4) 

    حدیث ۱۷: ابو داود نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا جب حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)ان کی طرف کھڑے ہوجاتے اور ان کا ہاتھ پکڑتے اور ان کو بوسہ دیتے پھر اپنی جگہ بٹھاتے اور جب حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)ان کے یہاں تشریف لے جاتے تو وہ کھڑی ہوجاتیں اور حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کا ہاتھ پکڑ لیتیں اور بوسہ دیتیں اور اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔ (5)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''سنن الترمذي''،کتاب الإستئذان...إلخ،باب ما جاء في المعانقۃ والقبلۃ،الحدیث:۲۷۴۱،ج۴،ص۳۳۵. 

2۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب في قبلۃ الجسد،الحدیث:۵۲۲۴،ج۴،ص۴۵۶.

3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق،باب في قبلۃ ما بین العینین،الحدیث:۵۲۲۰،ج۴،ص۴۵۵. 

4۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق،باب قبلۃ الرجل،الحدیث:۵۲۲۵،ج۴،ص۴۵۶.

5۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق،باب في القیام،الحدیث:۵۲۱۷،ج۴،ص۴۵۴.
Flag Counter