تو ہاتھ جدا ہونے سے پہلے اﷲتعالیٰ دونوں کے گزشتہ گناہوں کو بخش دے گا اور جو شخص اپنے بھائی کی طرف نظر محبت سے دیکھے، اس کے دل یا سینے میں عداوت نہ ہو تو نگاہ لوٹنے سے پہلے دونوں کے گزشتہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔''(1)
حدیث ۸: امام احمد و ترمذی نے ابوامامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''مریض کی پوری عیادت یہ ہے کہ اس کی پیشانی یا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر پوچھے کہ مزاج کیسا ہے اور پوری تحیت یہ ہے کہ مصافحہ کیا جائے ۔''(2)
حدیث ۹: ترمذی نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ ایک شخص نے عرض کی یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)!کوئی شخص اپنے بھائی یا دوست سے ملاقات کرے تو کیا اس کے لیے جھک جائے؟ فرمایا: ''نہیں۔''اس نے کہا، تو کیا اس سے چپٹ جائے اور بوسہ لے؟ فرمایا:''نہیں۔''اس نے کہا، تو کیا اس کا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کرے؟ فرمایا:''ہاں۔''(3)
حدیث ۱۰: ابو داود نے روایت کی، کہ ایک شخص نے ابوذررضی اللہ تعالٰی عنہ سے پوچھا، کیا تم لوگ جب حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)سے ملتے تھے تو حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) تم سے مصافحہ کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: میں نے جب کبھی ملاقات کی حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے مصافحہ کیا۔ ایک دن حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے آدمی بھیجا، میں گھر پر موجود نہ تھا، جب آیا تو مجھے مطلع کیا گیا میں حاضر ہوا، اس وقت حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)تخت پر تھے، مجھے چپٹالیا تو یہ خوب ہی اچھا تھا، خوب اچھا۔ (4)
حدیث ۱۱: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہتے ہیں میں رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے ساتھ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر گیا۔ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے حضرت حسنرضی اللہ تعالٰی عنہ کو دریافت کیا، کہ وہ یہاں ہیں؟ تھوڑی دیر بعد وہ دوڑتے ہوئے آئے ا ور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے انھیں گلے لگایا اور وہ بھی چپٹ گئے۔ پھر فرمایا:''اے اﷲ(عزوجل)! میں اسے محبوب رکھتا ہوں تو بھی اسے محبوب رکھ اور اسے محبوب بنا لے جو اسے محبوب رکھے۔''(5)
حدیث ۱۲: امام احمد نے یعلی ا رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں:حضرت حسن و حسین رضی اللہ تعالٰی عنہما دوڑ کر رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میںآئے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے انھیں چپٹا لیا اور فرمایا:''اولاد بخل اور بزدلی کا سبب ہوتی ہے۔'' (6)