Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
465 - 660
آداب عرض کہتے ہیں، اگرچہ اس میں اتنی برائی نہیں مگر سنت کے خلاف ہے۔ بعض لوگ تسلیم یا تسلیمات عرض کہتے ہیں، اس کو سلام کہا جاسکتا ہے کہ یہ سلام ہی کے معنی میں ہے۔ 

    بعض کہتے ہیں سلام۔ اس کو بھی سلام کہا جاسکتا ہے قرآن مجید میں ہے کہ ملائکہ جب ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
 (فَقَالُوۡا سَلٰمًا ؕ)
 (1)انھوں نے آکر سلام کہا، اس کے جواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی سلام کہا یعنی اگر کسی نے کہا سلام تو سلام کہہ دینے سے جواب ہوجائے گا۔ 

    بعض لوگ اس قسم کے ہیں کہ وہ خود تو کیا سلام کریں گے، اگر ان کو سلام کیا جاتا ہے تو بگڑتے ہیں، کہتے ہیں کہ کیا ہمیں بر ابر کا سمجھ لیا ہے، یعنی کوئی غریب آدمی سلام مسنون کرے تو وہ اپنی کسر شان(2)سمجھتے ہیں۔ 

    اور بعض یہ چاہتے ہیں کہ انھیں آداب عرض کہا جائے یا جھک کر ہاتھ سے اشارہ کیا جائے اور بعض یہاں تک بے باک ہیں کہ یہ کہتے ہیں، کیا ہمیں دُھنا(3)جولاہا (4)مقرر کررکھا ہے؟ اﷲتعالیٰ ان کو ہدایت دے اور ان کی آنکھیں کھولے۔ 

    مسئلہ ۳۳: کسی کے نام کے ساتھ علیہ السلام کہنا یہ انبیا وملائکہ علیہم السلام کے ساتھ خاص ہے، مثلاً موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام، جبریل علیہ السلام، نبی اور فرشتہ کے سوا کسی دوسرے کے نام کے ساتھ یوں نہ کہا جائے۔ 

    مسئلہ ۳۴: اکثر جگہ یہ طریقہ ہے کہ چھوٹا جب بڑے کو سلام کرتا ہے تو وہ جواب میں کہتا ہے جیتے رہو۔ یہ سلام کا جواب نہیں ہے، بلکہ یہ جواب جاہلیت میں کفار دیا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے حیاک اللہ۔ اسلام نے یہ بتایا کہ جواب میں وَعَلَیْکُمُ السَّلام کہا جائے۔
مصافحہ و معانقہ و بوسہ و قیام کا بیان
    حدیث ۱: امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ نے براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب دو مسلمان مل کر مصافحہ کرتے ہیں تو جدا ہونے سے پہلے ہی ان کی مغفرت ہوجاتی ہے۔''(5) 

    اور ابو داود کی روایت میں ہے، ''جب دو مسلمان ملیں اور مصافحہ کریں اور اﷲ(عزوجل)کی حمد کریں اور استغفار کریں تو دونوں کی مغفرت ہوجائے گی۔''(6)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ پ۱۴، الحجر: ۵۲. 

2۔۔۔۔۔۔یعنی اپنی بے عزتی۔    3۔۔۔۔۔۔یعنی روئی دُھننے والا۔    4۔۔۔۔۔۔یعنی کپڑابُننے والا۔

5۔۔۔۔۔۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الإستئذان...إلخ،باب ماجاء في المصافحۃ،الحدیث:۲۷۳۶،ج۴،ص۳۳۳.

6۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب في المصافحۃ،الحدیث:۵۲۱۱،ج۴،ص۴۵۳.
Flag Counter