(1)یعنی لوگ اس سے غافل ہیں۔
اعلیٰ حضرت قبلہ قدس سرہ جب خط پڑھا کرتے تو خط میں جو السَّلام عَلَیْکُمْ لکھا ہوتا ہے اس کا جواب زبان سے دے کر بعد کا مضمون پڑھتے۔
مسئلہ ۲۶: سلام کی میم کو ساکن کہا یعنی سَلامْ عَلَیْکُمْ، جیسا کہ اکثر جاہل اسی طرح کہتے ہیں یا سَلامُ عَلَیْکُمْ میم کے پیش کے ساتھ کہا، ان دونوں صورتوں میں جواب واجب نہیں کہ یہ مسنون سلام نہیں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: ابتداءً کسی نے یہ کہا عَلَیْکَ السَّلامیا عَلَیْکُمُ السَّلام،تو اس کا جواب نہیں۔ حدیث میں فرمایاکہ ''یہ مُردوں کی تحیت ہے۔''(3)
مسئلہ ۲۸: سلام اتنی آواز سے کہے کہ جس کو سلام کیا ہے وہ سن لے اور اگر اتنی آواز نہ ہو تو جواب دینا واجب نہیں، جواب سلام میں بھی اتنی آواز ہو کہ سلام کرنے والا سن لے اور اتنا آہستہ کہا کہ وہ سن نہ سکا تو واجب ساقط نہ ہوا اور اگر وہ بہراہے تو اس کے سامنے ہونٹ کو جنبش دے کہ اس کی سمجھ میں آجائے کہ جواب دے دیا۔ چھینک کے جواب کا بھی یہی حکم ہے۔(4) (بزازیہ)
مسئلہ ۲۹: انگلی یا ہتھیلی سے سلام کرنا ممنوع ہے۔ حدیث میں فرمایاکہ ''انگلیوں سے سلام کرنا یہودیوں کا طریقہ ہے اور ہتھیلی سے اشارہ کرنا نصاریٰ کا۔''(5)
مسئلہ ۳۰: بعض لو گ سلام کے جواب میں ہاتھ یا سر سے اشارہ کردیتے ہیں، بلکہ بعض صرف آنکھوں کے اشارہ سے جواب دیتے ہیں یوں جواب نہیں ہوا، ان کو مونھ سے جواب دینا واجب ہے۔
مسئلہ ۳۱: بعض لوگ سلام کرتے وقت جھک بھی جاتے ہیں، یہ جھکنا اگر حدرکوع تک ہو تو حرام ہے اور اس سے کم ہو تو مکروہ ہے۔
مسئلہ ۳۲: اس زمانہ میں کئی طرح کے سلام لوگوں نے ایجاد کرلیے ہیں۔ ان میں سب سے بُر ا یہ ہے جو بعض لوگ کہتے ہیں بندگی عرض یہ لفظ ہر گز نہ کہا جائے۔ بعض لوگ