Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
463 - 660
سلام نہ کیا جائے اور اس پر جواب دینا واجب نہیں۔ (1) (عالمگیری) پیشاب کے بعد ڈھیلا لے کر استنجا سکھانے کے لیے ٹہلتے ہیں، یہ بھی اسی حکم میں ہے کہ پیشاب کررہا ہے۔ 

    مسئلہ ۲۲: جو شخص علانیہ فسق کرتا ہو اسے سلام نہ کرے کسی کے پروس میں فساق رہتے ہیں، مگر ان سے یہ اگر سختی برتتا ہے تو وہ اس کو زیادہ پریشان کریں گے اور نرمی کرتا ہے ان سے سلام کلام جاری رکھتا ہے تووہ ایذا پہنچانے سے باز رہتے ہیں تو ان کے ساتھ ظاہری طور پر میل جول رکھنے میں یہ معذور ہے۔ (2) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۲۳: جو لوگ شطرنج کھیل رہے ہوں ان کو سلام کیا جائے یا نہ کیا جائے، جو علما سلام کرنے کو جائز فرماتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ سلام اس مقصد سے کرے کہ اتنی دیر تک کہ وہ جواب دیں گے، کھیل سے باز رہیں گے۔ یہ سلام ان کو معصیت سے بچانے کے لیے ہے، اگرچہ اتنی ہی دیر تک سہی۔ جو فرماتے ہیں کہ سلام کرنا ناجائز ہے ان کا مقصد زجرو توبیخ ہے کہ اس میں ان کی تذلیل ہے۔(3) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۲۴: کسی سے کہہ دیا کہ فلاں کو میرا سلام کہہ دینا اوس پر سلام پہنچانا واجب ہے اور جب اس نے سلام پہنچایاتوجواب یوں دے کہ پہلے اس پہنچانے والے کو اس کے بعد اس کو جس نے سلام بھیجا ہے یعنی یہ کہے
وَعَلَیْکَ وَعَلَیْہِ السَّلام۔
 (4)(عالمگیری)

     یہ سلام پہنچانا اس وقت واجب ہے جب اس نے اس کا التزام کر لیا ہو یعنی کہدیا ہو کہ ہاں تمہارا سلام کہدوں گا کہ اس وقت یہ سلام اس کے پاس امانت ہے جو اس کا حقدار ہے اس کو دینا ہی ہو گا ورنہ یہ بمنزلہ ودیعت ہے کہ اس پر یہ لازم نہیں کہ سلام پہنچانے وہاں جائے ۔ اسی طرح حاجیوں سے لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم کے دربار میں میرا سلام عرض کر دینا یہ سلام بھی پہنچانا واجب ہے۔ (5) (ردالمحتار)

    مسئلہ ۲۵: خط میں سلام لکھا ہوتا ہے اس کا بھی جواب دینا واجب ہے اور یہاں جواب دو طرح ہوتا ہے، ایک یہ کہ زبان سے جواب دے، دوسری صورت یہ ہے کہ سلام کا جواب لکھ کر بھیجے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار) مگر چونکہ جواب سلام فوراً دینا واجب ہے جیسا کہ اوپر مذکور ہوا تو اگر فوراً تحریری جواب نہ ہو جیسا کہ عموما ً یہی ہوتا ہے کہ خط کا جواب فوراً ہی نہیں لکھا جاتا خواہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع في السلام،ج۵،ص۳۲۶. 

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق.    3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق.     4۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

5۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۵. 

6۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۵.
Flag Counter