Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
462 - 660
السَّلامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی
کہے۔ (1) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۶: کافر کو اگر حاجت کی وجہ سے سلام کیا، مثلاً سلام نہ کرنے میں اس سے اندیشہ ہے تو حرج نہیں اور بقصد تعظیم کافر کو ہرگز ہرگز سلام نہ کرے کہ کافر کی تعظیم کفر ہے۔ (2) (درمختار) 

    مسئلہ ۱۷: سلام اس لیے ہے کہ ملاقات کرنے کو جو شخص آئے وہ سلام کرے کہ زائر اور ملاقات کرنے والے کی یہ تحیت ہے۔ لہٰذا جو شخص مسجد میں آیا اور حاضرین مسجد تلاوت قرآن و تسبیح ودرود میں مشغول ہیں یا انتظارِ نماز میں بیٹھے ہیں تو سلام نہ کرے کہ یہ سلام کا وقت نہیں۔ اسی واسطے فقہا یہ فرماتے ہیں کہ ان کو اختیار ہے کہ جواب دیں یا نہ دیں۔ ہاں اگر کوئی شخص مسجد میں اس لیے بیٹھا ہے کہ لوگ اس کے پاس ملاقات کو آئیں تو آنے والے سلام کریں۔(3) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۸: کوئی شخص تلاوت میں مشغول ہے یا درس و تدریس یا علمی گفتگو یا سبق کی تکرار میں ہے تو اس کو سلام نہ کرے۔ اسی طرح اذان و اقامت و خطبہ جمعہ و عیدین کے وقت سلام نہ کرےٖ۔ سب لوگ علمی گفتگو کررہے ہوں یا ایک شخص بول رہا ہے باقی سن رہے ہوں،دونوں صورتوں میں سلام نہ کرے، مثلاً عالم وعظ کہہ رہا ہے یا دینی مسئلہ پر تقریر کررہا ہے اور حاضرین سن رہے ہیں، آنے والا شخص چپکے سے آکر بیٹھ جائے سلام نہ کرے۔ (4) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۹: عالمِ دین تعلیم علمِ دین میں مشغول ہے، طالب علم آیا تو سلام نہ کرے اور سلام کیا تو اس پر جواب دینا واجب نہیں۔ (5) (عالمگیری)اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگرچہ وہ پڑھا نہ رہا ہو سلام کا جواب دینا واجب نہیں، کیونکہ یہ اس کی ملاقات کو نہیں آیا ہے کہ اس کے لیے سلام کرنا مسنون ہو بلکہ پڑھنے کے لیے آیا ہے، جس طرح قاضی کے پاس جو لوگ اجلاس میں جاتے ہیں وہ ملنے کو نہیں جاتے بلکہ اپنے مقدمہ کے لیے جاتے ہیں۔ 

    مسئلہ ۲۰: جو شخص ذکر میں مشغول ہو اس کے پاس کوئی شخص آیا تو سلام نہ کرے اور کیا تو ذاکر (6)پر جواب واجب نہیں۔ (7) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۲۱: جو شخص پیشاب پاخانہ پھررہا ہے یا کبوتر اڑا رہا ہے یا گارہا ہے یا حمام یا غسل خانہ میں ننگانہارہا ہے، اس کو
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع في السلام،ج۵،ص۳۲۵. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع،ج۹،ص۶۸۱. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع في السلام،ج۵،ص۳۲۵. 

4۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق،ص۳۲۵ ۔ ۳۲۶.     5۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق،ص۳۲۶. 

6۔۔۔۔۔۔ یعنی ذِکر کرنے والا۔ 

7۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب السابع في السلام،ج۵،ص۳۲۶.
Flag Counter