Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
435 - 660
    حدیث ۲۳: ابو داود نے علی بن شیبان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص ایسی چھت پر رات میں رہے ،جس پر روک نہیں ہے یعنی دیوار یا منڈیر نہیں ہے اس سے ذمہ بری ہے۔''(1)یعنی اگر رات میں چھت سے گرجائے تو اس کا ذمہ دار وہ خود ہے۔ 

    حدیث ۲۴: ترمذی نے جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اس چھت پر سونے سے منع فرمایا کہ جس پر روک نہ ہو۔ (2) 

    حدیث ۲۵: ابو یعلیٰ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی ، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص عصر کے بعد سوئے اور اس کی عقل جاتی رہے تو وہ اپنے ہی کو ملامت کرے۔''(3) 

    حدیث ۲۶: امام احمد نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ ''رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے تنہائی سے منع فرمایا۔''(4)یعنی اس سے کہ آدمی تنہا سوئے۔ 

    حدیث ۲۷: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''ایک شخص دو چادریں اوڑھے ہوئے اِترا کر چل رہا تھا اور گھمنڈ میں تھا، وہ زمین میں دھنسادیا گیا، وہ قیامت تک دھنستا ہی جائے گا۔''(5) 

    حدیث ۲۸: ابو داود نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ ''رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے مرد کو دو عورتوں کے درمیان میں چلنے سے منع فرمایا۔''(6) 

    حدیث ۲۹: بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب تمھارے سامنے عورتیں آجائیں تو ان کے درمیان میں نہ گزرو، داہنے یا بائیں کا راستہ لے لو۔'' (7) 

    مسئلہ ۱: قیلولہ (8)کرنا جائز بلکہ مستحب ہے۔ (9) (عالمگیری)غالباً یہ ان لوگوں کے لیے ہوگا جو شبِ بیداری کرتے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب فی النوم علی سطح غیرمحجر،الحدیث:۵۰۴۱،ج۴،ص۴۰۲.

و''مشکاۃ المصابیح''،کتاب الأدب، باب الجلوس...إلخ،الحدیث:۴۷۲۰،ج۳،ص۲۲.

2۔۔۔۔۔۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأدب، باب...، الحدیث:۲۸۶۳،ج۴،ص۳۸۸.

3۔۔۔۔۔۔ ''المسند أبي یعلی''،مسند عائشہ رضی اللہ عنہا، الحدیث:۴۸۹۷،ج۴،ص۲۷۸. 

4۔۔۔۔۔۔ ''المسند''للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبد اللہ بن عمر، الحدیث:۵۶۵۴،ج۲،ص۴۰۱. 

5۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم ''،کتاب اللباس، باب تحریم التبختر في المشی...إلخ، الحدیث:۴۹،۵۰۔(۲۰۸۸)۱۱۵۶.

6۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب، باب في مشی النساء مع الرجال في الطریق،الحدیث:۵۲۷۳،ج۴،ص۴۷۰.

7۔۔۔۔۔۔ ''شعب الإیمان''، باب في تحریم الفروج، الحدیث:۵۴۴۷،ج۴،ص۳۷۱۔۳۷۲. 

8۔۔۔۔۔۔ یعنی دوپہر کی تھوڑی نیند یا دوپہر کا (بغیر سوئے ہوئے) آرام۔ 

9۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثلاثون في المتفرقات،ج۵،ص۳۷۶.
Flag Counter