| بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16) |
ہیں، رات میں نمازیں پڑھتے ذکرِ الٰہی کرتے ہیں یا کُتب بینی یا مطالعہ میں مشغول رہتے ہیں کہ شب بیداری میں جو تکان ہوا قیلولہ سے دفع ہوجائے گا۔
مسئلہ ۲: دن کے ابتدائی حصہ میں سونا یا مغرب و عشا کے درمیان میں سونا مکروہ ہے۔ سونے میں مستحب یہ ہے کہ باطہارت سوئے اور کچھ دیر دہنی کروٹ پر دہنے ہاتھ کو رخسارہ کے نیچے رکھ کر قبلہ رو سوئے پھر اس کے بعد بائیں کروٹ پر اور سوتے وقت قبر میں سونے کو یاد کرے کہ وہاں تنہا سونا ہوگا سوا اپنے اعمال کے کوئی ساتھ نہ ہوگا، سوتے وقت یادِ خدا میں مشغول ہو تہلیل و تسبیح وتحمید پڑھے یہاں تک کہ سوجائے، کہ جس حالت پر انسان سوتا ہے اسی پر اٹھتا ہے اور جس حالت پر مرتا ہے قیامت کے دن اسی پر اٹھے گا۔ سو کر صبح سے پہلے ہی اٹھ جائے اور اٹھتے ہی یادِ خدا کرے یہ پڑھے:اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّـذِیْۤ اَحْیَانَا بَعْدَ مَآ اَمَا تَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ .
(1)اسی وقت اس کا پکا ارادہ کرے کہ پرہیز گاری و تقویٰ کریگا کسی کو ستائے گا نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: بعد نمازِ عشا باتیں کرنے کی تین صورتیں ہیں۔
اول: علمی گفتگو کسی سے مسئلہ پوچھنا یااس کا جواب دینا یا اس کی تحقیق و تفتیش کرنا اس قسم کی گفتگو سونے سے افضل ہے۔
دوم: جھوٹے قصے کہانی کہنا مسخرہ پن اور ہنسی مذاق کی باتیں کرنا یہ مکروہ ہے۔
سوم: موانست کی بات چیت کرنا جیسے میاں بیوی میں یا مہمان سے اس کے انس کے لیے کلام کرنا یہ جائز ہے اس قسم کی باتیں کرے تو آخر میں ذکر الٰہی میں مشغول ہوجائے اور تسبیح و استغفار پر کلام کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
مسئلہ ۴: دومرد برہنہ ایک ہی کپڑے کو اوڑھ کر لیٹیں یہ ناجائز ہے۔ اگرچہ بچھو نے کے ایک کنارہ پر ایک لیٹا ہو اور دوسرے کنارہ پر دوسرا ہو،اسی طرح دو عورتوں کا برہنہ ہو کر ایک کپڑے کو اوڑھ کر لیٹنا بھی ناجائز ہے۔ (3) ''حدیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔''(4)
مسئلہ ۵: جب لڑکے اور لڑکی کی عمر دس سال کی ہوجائے تو ان کو الگ الگ سلانا چاہیے یعنی لڑکا جب اتنا بڑا ہوجائے اپنی ماں یا بہن یا کسی عورت کے ساتھ نہ سوئے صرف اپنی زوجہ یا باندی کے ساتھ سوسکتا ہے، بلکہ اس عمر کا لڑکا اتنے بڑے لڑکوں یا مردوں کے ساتھ بھی نہ سوئے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ترجمہ: تمام تعریفیں اﷲ تعالیٰ کے لیے جس نے ہمیں موت (نیند)کے بعد زندگی دی اور (قیامت کے دن) اسی کی طرف اٹھنا ہے۔ 2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثلاثون في المتفرقات،ج۵،ص۳۷۶. 3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،باب الإستبراء وغیرہ،ج۹،ص۶۲۹. 4۔۔۔۔۔۔ انظر: ''صحیح مسلم''،کتاب الحیض،باب تحریم النظرإلی العورات، الحدیث:۷۴۔(۳۳۸)،ص۱۸۶. 5۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،باب الإستبراء وغیرہ،ج۹،ص۶۲۹.