حدیث ۷ ۱: صحیح بخاری و مسلم میں عباد بن تمیم سے روایت ہے، وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ'' رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو مسجد میں لیٹے ہوئے میں نے دیکھا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ایک پاؤں کو دوسرے پر رکھا تھا۔''(1)
یہ بیان جواز کے لیے ہے اور اس صورت میں کہ ستر کھلنے کا اندیشہ نہ ہو، اور پہلی حدیث اس صورت میں ہے کہ ستر کھلنے کا اندیشہ ہو۔ مثلاً آدمی تہبند پہنے ہو اور چت لیٹ کر ایک پاؤں کھڑا کرکے اس پر دوسرے کو رکھے تو ستر کھلنے کا اندیشہ ہوتا ہے اور اگر پاؤں پھیلا کر ایک کودوسرے پر رکھے تو اس صورت میں کھلنے کا اندیشہ نہیں ہوتا۔
حدیث ۱۸: شرح سنہ میں ہے کہ ابوقتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ ''ر سول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم جب رات میں منزل میں اوترتے تو دہنی کروٹ پر لیٹتے اور جب صبح سے کچھ ہی پہلے اوترتے تو دہنے ہاتھ کو کھڑا کرتے اور اس کی ہتھیلی پر سر رکھ کر لیٹتے۔ ''(2)
حدیث ۱۹: ترمذی نے جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کوبائیں کروٹ پر تکیہ لگائے ہوئے دیکھا۔ (3)
حدیث ۲۰: ترمذی نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ایک شخص کو پیٹ کے بل لیٹے ہوئے دیکھا، فرمایا:''اس طرح لیٹنے کو اﷲ(عزوجل)پسند نہیں کرتا۔'' (4)
حدیث ۲۱: ابو داود و ابن ماجہ نے طخفہ غفاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی ، (یہ اصحاب صفہ میں سے تھے) کہتے ہیں،سینے کی بیماری کی وجہ سے میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا کہ اچانک کوئی شخص اپنے پاؤں سے مجھے حرکت دیتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ '' اس طرح لیٹنے کو اﷲ تعالٰی مبغوض رکھتا ہے۔''میں نے دیکھا تو وہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم تھے۔ (5)
حدیث ۲۲: ابن ماجہ نے ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں:میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم میرے پاس سے گزرے اور پاؤں سے ٹھوکر ماری اور فرمایا:''اے جندب (یہ حضرت ابوذر کا نام ہے یہ جہنمیوں کے لیٹنے کا طریقہ ہے۔''(6)یعنی اس طرح کافر لیٹتے ہیں یا یہ کہ جہنمی جہنم میں اس طرح لیٹیں گے۔