حدیث ۵: ترمذی و ابو داود نے عبداﷲبن عَمْرْو رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''کسی کو یہ حلال نہیں کہ دو شخصوں کے درمیان جدائی کردے (یعنی دونوں کے درمیان میں بیٹھ جائے)، مگر ان کی اجازت سے۔''(1)
حدیث ۶: بیہقی نے شعب الایمان میں واثلہ بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ ایک شخص رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس کے لیے حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)اپنی جگہ سے سرک گئے اس نے عرض کیا، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)جگہ کشادہ موجود ہے، (حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو سرکنے اور تکلیف فرمانے کی ضرورت نہیں)۔ ارشاد فرمایا:''مسلم کا یہ حق ہے کہ جب اس کا بھائی اسے دیکھے، اس کے لیے سرک جائے۔'' (2)
حدیث ۷: رزین نے ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ ''رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم جب مسجد میں بیٹھتے دونوں ہاتھوں سے احتبا کرتے ۔'' (3)
احتبا کی صورت یہ ہے کہ آدمی سرین کو زمین پر رکھ دے اور گھٹنے کھڑے کرکے دونوں ہاتھوں سے گھیر لے اور ایک ہاتھ کو دوسرے سے پکڑ لے اس قسم کا بیٹھنا تواضع اور انکسار میں شمار ہوتا ہے۔
حدیث ۸: ابو داود نے جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں کہ ''نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم جب نماز فجر پڑھ لیتے چار زانو بیٹھے رہتے ،یہاں تک کہ آفتاب اچھی طرح طلوع ہوجاتا۔'' (4)
حدیث ۹: ابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جب کوئی شخص سایہ میں ہو اور سایہ سمٹ گیا کچھ سایہ میں ہوگیا کچھ دھوپ میں تو وہاں سے اٹھ جائے۔'' (5)
حدیث ۱۰: ابو داود نے عمرو بن شریدرضی اللہ تعالٰی عنہ سے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں:میں اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ بائیں ہاتھ کو پیٹھ کے پیچھے کر لیا اور داہنے ہاتھ کی ہتھیلی کی گدی پر ٹیک لگائی۔ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم