حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''ایسا نہ کرے کہ ایک شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے اوٹھا کر خود بیٹھ جائے و لیکن ہٹ جایا کرو اور جگہ کشادہ کردیا کرو۔''(1)یعنی بیٹھنے والوں کو یہ چاہیے کہ آنے والے کے لیے سرک جائیں اور جگہ دے دیں کہ وہ بھی بیٹھ جائے یا یہ کہ آنے والا کسی کو نہ اٹھائے بلکہ ان سے کہے کہ سرک جاؤ، مجھے بھی جگہ دیدو۔
صحیح بخاری میں یہ بھی مذکور ہے کہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما اسے مکروہ جانتے تھے کہ کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ جائے اور یہ اس کی جگہ پر بیٹھیں۔ (2)حضرت ابن عمر(رضی اللہ تعالٰی عنہما )کا یہ فعل کمال ورع سے تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا جی نہ چاہتا ہو اور محض ان کی خاطر سے جگہ چھوڑ دی ہو۔
حدیث ۲: ابو داود نے سعید بن ابی الحسن سے روایت کی، کہتے ہیں:کہ ابوبکر ہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ہمارے پاس ایک شہادت میں آئے۔ ایک شخص ان کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ گیا، انھوں نے اس جگہ پر بیٹھنے سے انکار کیا اور یہ کہا کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اس سے منع فرمایا ہے اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اس سے بھی منع فرمایا ہے کہ ''کوئی شخص ایسے شخص کے کپڑے سے ہاتھ پونچھے جس کو یہ کپڑا پہنایا نہیں ہے۔''(3)
اس حدیث میں بھی اگرچہ یہ نہیں ہے کہ ابوبکر ہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس شخص کو اس کی جگہ سے اٹھایا ہو، بلکہ وہ شخص خود اٹھ گیا تھا اور بظاہر یہ صورت ممانعت کی نہیں ہے مگر یہ کمال احتیاط ہے کہ انھوں نے اس صورت میں بھی بیٹھنا گوارا نہ کیا کہ اگرچہ اٹھنے کو کہا نہیں مگر اٹھنا چونکہ انھیں کے لیے ہوا، لہٰذا یہ خیال کیا کہ کہیں یہ بھی اٹھانے ہی کے حکم میں نہ ہو۔
حدیث ۳: صحیح مسلم میں ابوہ ریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر گیا، پھر آگیا تو اس جگہ کا وہی حق دار ہے۔''(4)یعنی جبکہ جلد آجائے۔
حدیث ۴: ابو داود نے ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم جب بیٹھتے اور ہم لوگ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے پاس بیٹھتے اور اٹھ کر تشریف لے جاتے مگر واپسی کا ارادہ ہوتا تو نعلین مبارک یا کوئی چیز وہاں چھوڑ جاتے اس سے صحابہ کو یہ پتا چلتا کہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)تشریف لائیں گے اور سب لوگ ٹھہر ے رہتے۔ (5)