مسئلہ ۵: جب ان چیزوں کی انگوٹھیاں مرد و عورت دونوں کے لیے ناجائز ہیں تو ان کا بنانا اور بیچنا بھی ممنو ع ہوا کہ یہ ناجائز کام پر اعانت (1)ہے۔ ہاں بیع کی(2)ممانعت ویسی نہیں جیسی پہننے کی ممانعت ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: لوہے کی انگوٹھی پر چاندی کا خول چڑھا دیا کہ لوہا بالکل نہ دکھائی دیتا ہو، اس انگوٹھی کے پہننے کی ممانعت نہیں۔ (4) (عالمگیری)اس سے معلوم ہوا کہ سونے کے زیوروں میں جو بہت لوگ اندر تانبے یا لوہے کی سلاخ رکھتے ہیں اور اوپر سے سونے کا پتّر چڑھا دیتے ہیں، اس کا پہننا جائز ہے۔
مسئلہ ۷: انگوٹھی کے نگینہ میں سوراخ کرکے اس میں سونے کی کیل ڈال دینا جائز ہے۔ (5) (ہدایہ)
مسئلہ ۸: انگوٹھی اُنھیں کے لیے مسنون ہے جن کو مہ ر کرنے کی حاجت ہوتی ہے، جیسے سلطان و قاضی اور علما جو فتوی پر مہ ر کرتے ہیں، ان کے سوا دوسروں کے لیے جن کو مہ ر کرنے کی حاجت نہ ہو مسنون نہیں مگر پہننا جائز ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: مرد کو چاہیے کہ اگر انگوٹھی پہنے تو اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھے اور عورتیں نگینہ ہاتھ کی پشت کی طرف رکھیں کہ ان کا پہننا زینت کے لیے ہے اور زینت اسی صورت میں زیادہ ہے کہ نگینہ باہ ر کی جانب رہے۔ (7) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۰: دہنے یا بائیں جس ہاتھ میں چاہیں انگوٹھی پہن سکتے ہیں اور چھنگلیا میں پہنی جائے۔ (8) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: انگوٹھی پر اپنا نام کندہ کراسکتا ہے اوراﷲتعالیٰ اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کا نام پاک بھی کندہ کراسکتا ہے، مگر ''محمد رسول اﷲ''یعنی یہ عبارت کندہ نہ کرائے کہ یہ حضور ( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی انگشتری پر تین سطروں میں کندہ تھی، پہلی سطر محمد (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)، دوسری رسول، تیسری اسم جلالت اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمادیا تھا کہ کوئی دوسرا شخص اپنی انگوٹھی پر یہ نقش کندہ نہ کرائے۔ نگینہ پر انسان یا کسی جانور کی تصویر کندہ نہ کرائے۔ (9) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: انگوٹھی وہی جائز ہے جو مردوں کی انگوٹھی کی طرح ہو یعنی ایک نگینہ کی ہو اور اگر اس میں کئی نگینے ہوں تو اگرچہ