Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
426 - 660
گھنگرو بج رہے تھے، فرمایاکہ اسے میرے پاس نہ لانا، جب تک اس کے گھنگرو کاٹ نہ لینا۔ میں نے رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے سنا ہے، کہ ''جس گھر میں جرس یعنی گھنٹی یا گھنگرو ہوتے ہیں، اس میں فرشتے نہیں آتے۔'' (1) 

    مسئلہ ۱: مرد کو زیور پہننا مطلقاً حرام ہے، صرف چاندی کی ایک انگوٹھی جائز ہے، جو وزن میں ایک مثقال یعنی ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو اور سونے کی انگوٹھی بھی حرام ہے۔ تلوار کا حلیہ چاندی کا جائز ہے یعنی اس کے نیام اور قبضہ یا پرتلے (2)میں چاندی لگائی جاسکتی ہے، بشرطیکہ وہ چاندی موضع استعمال میں نہ ہو۔ (3) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۲: انگوٹھی صرف چاندی ہی کی پہنی جاسکتی ہے، دوسری دھات کی انگوٹھی پہننا حرام ہے، مثلاً لوہا، پیتل، تانبا، جست وغیرہا ان دھاتوں کی انگوٹھیاں مرد و عورت دونوں کے لیے ناجائز ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ عورت سونا بھی پہن سکتی ہے اور مرد نہیں پہن سکتا۔ 

    حدیث میں ہے کہ ایک شخص حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں پیتل کی انگوٹھی پہن کر حاضر ہوئے، فرمایا: کیا بات ہے کہ تم سے بُت کی بُو آتی ہے؟انھوں نے وہ انگوٹھی پھینک دی پھر دوسرے دن لوہے کی انگوٹھی پہن کر حاضر ہوئے، فرمایا:کیا بات ہے کہ تم پر جہنمیوں کا زیور دیکھتا ہوں؟ انھوں نے اس کو بھی اتار دیا اور عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کس چیز کی انگوٹھی بناؤں؟ فرمایاکہ ''چاندی کی اور اس کو ایک مثقال پورا نہ کرنا۔''(4) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۳: بعض علما نے یشب (5)اور عقیق (6) کی انگوٹھی جائز بتائی اور بعض نے ہر قسم کے پتھر کی انگوٹھی کی اجازت دی اور بعض ان سب کی ممانعت کرتے ہیں۔ 

    لہٰذا احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ چاندی کے سوا ہ ر قسم کی انگوٹھی سے بچاجائے، خصوصاً جبکہ صاحبِ ہدایہ جیسے جلیل القدر کا میلان ان سب کے عدم جواز (7)کی طرف ہے۔ 

    مسئلہ ۴: انگوٹھی سے مراد حلقہ ہے نگینہ نہیں، نگینہ ہ ر قسم کے پتھر کا ہوسکتا ہے۔ عقیق، یاقوت، زمرد، فیروزہ وغیرہا سب کا نگینہ جائز ہے۔ (8) (درمختار)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الخاتم، باب ماجاء في الجلاجل،الحدیث:۴۲۳۱،ج۴،ص۱۲۵. 

2۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ پیٹی یا چوڑا تسمہ جس میں تلوار لٹکی رہتی ہے۔ 

3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۹۲. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۹۳. 

''سنن أبي داود''،کتاب الخاتم، باب ماجاء في خاتم الحدید، الحدیث:۴۲۲۳،ج۴،ص۱۲۲.

5۔۔۔۔۔۔ یعنی ایک قیمتی پتھر کا نام جو مائل بہ سبزی ہوتا ہے۔ 6۔۔۔۔۔۔ یعنی ایک سرخ رنگ کا قیمتی پتھر۔    7۔۔۔۔۔۔ یعنی ناجائز ہونے۔ 

8۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۹۵.
Flag Counter