| بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16) |
وہ چاندی ہی کی ہو، مرد کے لیے ناجائز ہے۔ (1) (ردالمحتار)اسی طرح مردوں کے لیے ایک سے زیادہ انگوٹھی پہننا یا چھلے پہننا بھی ناجائز ہے کہ یہ انگوٹھی نہیں، عورتیں چھلے پہن سکتی ہیں۔
مسئلہ ۱۳: ہلتے ہوئے دانتوں کو سونے کے تار سے بندھوانا جائز ہے اور اگر کسی کی ناک کٹ گئی ہو تو سونے کی ناک بنوا کر لگا سکتا ہے۔ ان دونوں صورتوں میں ضرورت کی وجہ سے سونے کو جائز کہا گیا، کیونکہ چاندی کے تار سے دانت باندھے جائیں یا چاندی کی ناک لگائی جائے تو اس میں تعفن (2) پیدا ہوگا۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: دانت گر گیا اسی دانت کو سونے یا چاندی کے تار سے بندھواسکتا ہے، دوسرے شخص کا دانت اپنے میں نہیں لگاسکتا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: لڑکوں کو سونے چاندی کے زیور پہنانا حرام ہے اور جس نے پہنایا، وہ گنہگار ہوگا۔ اسی طرح بچوں کے ہاتھ پاؤں میں بلا ضرورت مہندی لگانا ناجائز ہے۔ عورت خود اپنے ہاتھ پاؤں میں لگاسکتی ہے، مگر لڑکے کو لگائے گی تو گنہگار
ہوگی۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)برتن چھپانے اور سونے کے وقت کے آداب
حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب رات کی ابتدائی تاریکی آجائے یا یہ فرمایا کہ جب شام ہوجائے تو بچوں کو سمیٹ لو کہ اُس وقت شیاطین منتشر ہوتے ہیں پھر جب ایک گھڑی رات چلی جائے، اب اُنھیں چھوڑ دو اور بسم اﷲ کہہ کر دروازے بند کرلو کہ اس طرح جب دروازہ بند کیا جائے تو شیطان نہیں کھول سکتا اور بسم اﷲ کہہ کر مشکوں کے دہانے باندھو اور بسم اﷲ پڑھ کر برتنوں کو ڈھانک دو، ڈھانکو نہیں تو یہی کرو کہ اس پر کوئی چیز آڑی کرکے رکھ دو اور چراغوں کو بجھادو۔''(6)
اور صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے، کہ ''برتن چھپادو اور مشکوں کے مونھ بند کردو اور دروازے بھیڑ دو اور بچوںـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس، ج۹، ص۵۹۷. 2۔۔۔۔۔۔ بدبو۔ 3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب العاشرفي إستعمال الذھب والفضۃ،ج۵، ص۳۳۶. 4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب العاشر فيإستعمال الذھب والفضۃ،ج۵، ص۳۳۶. 5۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۹۸. 6۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ، باب الأمر بتغطیۃالإناء...إلخ، الحدیث:۹۷۔(۲۰۱۲)،ص۱۱۱۴.