نعلین پہنے دیکھا، جن میں بال نہ تھے۔ (1)
حدیث ۳: صحیح بخاری میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی نعلین میں دو قبال تھے۔ (2)یعنی انگلیوں کے مابین دو تسمے تھے۔
حدیث ۴: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہ ریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''جب جوتا پہنے تو پہلے دہنے پاؤں میں پہنے اور جب اوتارے تو پہلے بائیں پاؤں کا اُتارے کہ دہنا پہننے میں پہلے ہو اور اُتارنے میں پیچھے۔'' (3)
حدیث ۵: صحیح بخار ی و مسلم میں ابوہ ریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''ایک جوتا پہن کر نہ چلے، دونوں اتار دے یا دونوں پہن لے۔''(4)
حدیث ۶: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو فقط ایک جوتا پہن کر نہ چلے بلکہ تسمہ کو درست کرلے اورایک موزہ پہن کر نہ چلے۔'' (5)
حدیث ۷: ترمذی نے جابر سے اور ابن ماجہ نے ابوہ ریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا۔ (6)
یہ حکم ان جوتوں کا ہے جن کو کھڑے ہو کر پہننے میں دِقت ہوتی ہے، جن میں تسمے باندھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح بوٹ جوتا بھی بیٹھ کر پہنے کہ اس میں بھی فیتہ باندھنا پڑتا ہے اور کھڑے ہو کر باندھنے میں دشواری ہوتی ہے اور جو اس قسم کے نہ ہوں جیسے سلیم شاہی یا پمپ یا وہ چپل جس میں تسمہ باندھنا نہیں ہوتا، ان کو کھڑے ہو کرپہننے میں مضایقہ نہیں۔
حدیث ۸: ترمذی نے عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کبھی ایک نعل پہن کر بھی چلے ہیں۔(7)یہ بیان جواز کے لیے ہوگا یا دو ۲ ایک قدم چلنا ہوا ہوگا مثلاً حجرے کا دروازہ کھولنے کے لیے۔