جائے اور بعض حدیثوں میں جو ممانعت آئی ہے، اس سے مراد وہ تعویذات ہیں جو ناجائز الفاظ پر مشتمل ہوں، جو زمانہ جاہلیت میں کیے جاتے تھے، اسی طرح تعویذات اور آیات و احادیث و ادعیہ کو رکابی میں لکھ کر مریض کو بہ نیت شفا پلانا بھی جائز ہے۔ جنبو حائض و نفسابھی تعویذات کو گلے میں پہن سکتے ہیں، بازو پر باندھ سکتے ہیں جبکہ غلاف میں ہوں۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: بچھونے یا مُصلّے پر کچھ لکھا ہوا ہو تو اس کو استعمال کرنا ناجائز ہے۔ یہ عبارت اس کی بناوٹ میں ہو یا کاڑھی گئی ہو (2) یا روشنائی سے لکھی ہو، اگرچہ حروف مفردہ لکھے ہوں کیونکہ حروف مفردہ (3) کا بھی احترام ہے۔ (4) (ردالمحتار) اکثر دسترخوان پر عبارت لکھی ہوتی ہے ایسے دسترخوانوں کو استعمال میں لانا، اُن پر کھانا کھانا نہ چاہیے۔ بعض لوگوں کے تکیوں پر اشعار لکھے ہوتے ہیں، ان کا بھی استعمال نہ کیا جائے۔
مسئلہ ۷: بعض کاشتکار اپنے کھیتوں میں کپڑا لپیٹ کر کسی لکڑی پر لگادیتے ہیں، اس سے مقصود نظرِ بد سے کھیتوں کو بچانا ہوتا ہے کیونکہ دیکھنے والے کی نظر پہلے اس پر پڑے گی، اس کے بعد زراعت پر پڑے گی اور اُس صورت میں زراعت کو نظر نہیں لگے گی، ایسا کرنا ناجائز نہیں کیونکہ نظر کا لگنا صحیح ہے، احادیث سے ثابت ہے، اس کا انکار نہیں کیاجاسکتا۔ حدیث میں ہے کہ جب اپنی یا کسی مسلمان بھائی کی چیز دیکھے اور پسند آئے تو برکت کی دعا کرے یہ کہے: