Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
420 - 660
جائے اور بعض حدیثوں میں جو ممانعت آئی ہے، اس سے مراد وہ تعویذات ہیں جو ناجائز الفاظ پر مشتمل ہوں، جو زمانہ جاہلیت میں کیے جاتے تھے، اسی طرح تعویذات اور آیات و احادیث و ادعیہ کو رکابی میں لکھ کر مریض کو بہ نیت شفا پلانا بھی جائز ہے۔ جنبو حائض و نفسابھی تعویذات کو گلے میں پہن سکتے ہیں، بازو پر باندھ سکتے ہیں جبکہ غلاف میں ہوں۔ (1) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۶: بچھونے یا مُصلّے پر کچھ لکھا ہوا ہو تو اس کو استعمال کرنا ناجائز ہے۔ یہ عبارت اس کی بناوٹ میں ہو یا کاڑھی گئی ہو (2) یا روشنائی سے لکھی ہو، اگرچہ حروف مفردہ لکھے ہوں کیونکہ حروف مفردہ (3) کا بھی احترام ہے۔ (4) (ردالمحتار) اکثر دسترخوان پر عبارت لکھی ہوتی ہے ایسے دسترخوانوں کو استعمال میں لانا، اُن پر کھانا کھانا نہ چاہیے۔ بعض لوگوں کے تکیوں پر اشعار لکھے ہوتے ہیں، ان کا بھی استعمال نہ کیا جائے۔ 

    مسئلہ ۷: بعض کاشتکار اپنے کھیتوں میں کپڑا لپیٹ کر کسی لکڑی پر لگادیتے ہیں، اس سے مقصود نظرِ بد سے کھیتوں کو بچانا ہوتا ہے کیونکہ دیکھنے والے کی نظر پہلے اس پر پڑے گی، اس کے بعد زراعت پر پڑے گی اور اُس صورت میں زراعت کو نظر نہیں لگے گی، ایسا کرنا ناجائز نہیں کیونکہ نظر کا لگنا صحیح ہے، احادیث سے ثابت ہے، اس کا انکار نہیں کیاجاسکتا۔ حدیث میں ہے کہ جب اپنی یا کسی مسلمان بھائی کی چیز دیکھے اور پسند آئے تو برکت کی دعا کرے یہ کہے:
    تَبَارَکَ اللہُ اَحْسَنُ الْخَالِـقِیْنَ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ فِیْہِ .
    یا اردو میں یہ کہدے کہ اﷲ(عزوجل)برکت کرے۔ اس طرح کہنے سے نظر نہیں لگے گی۔ (5) (ردالمحتار)
جوتا پہننے کا بیان
    حدیث ۱: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو یہ فرماتے سناکہ ''جوتے بکثرت استعمال کرو کہ آدمی جب تک جوتے پہنے ہوئے ہے، گویا وہ سوار ہے یعنی کم تھکتا ہے۔'' (6) 

    حدیث ۲: صحیح بخاری میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو میں نے ایسی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۶۰۰.

2۔۔۔۔۔۔ یعنی کڑھائی کی گئی ہو۔         3۔۔۔۔۔۔ یعنی جُدا جُدا لکھے ہوئے حروف۔ 

4۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۶۰۰. 

5۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۶۰۱. 

6۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''،کتاب اللباس، باب إستحباب لبس النعال...إلخ، الحدیث:۶۷۔(۲۰۹۷)،ص۶۱۱۱.
Flag Counter