Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
418 - 660
مگر نماز میں نہ ہو تو مکروہ ہے یا نہیں اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر کرتہ یا پاجامہ یا تہبند پہنے ہوئے ہے اور چادر کو سریا شانوں سے لٹکادیا تو مکروہ نہیں اور اگر کرتہ نہیں پہنے ہوئے ہے تو سدل مکروہ ہے۔ (1) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۴۱: پوستین (2)پہننا جائز ہے۔ بزرگانِ دین، علما و مشایخ نے پہنی ہے۔ جو جانور حلال نہیں، اگر اس کو ذبح کرلیا ہو یا اس کے چمڑے کی دباغت کرلی ہو تو اُس کی پوستین بھی پہنی جاسکتی ہے اور اس کی ٹوپی اوڑھی جاسکتی ہے، مثلاً لومڑی کی پوستین یا سمور کی پوستین کہ بلی کی شکل کا ایک جانور ہوتا ہے جس کی پوستین بنائی جاتی ہے۔ اسی طرح سنجاب کی پوستین، یہ گھونس (3)کی شکل کا جانور ہوتا ہے۔ (4) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۴۲: درندہ جانور شیرچیتا وغیرہ کی پوستین میں بھی حرج نہیں اس کو پہن سکتے ہیں، اس پر نماز پڑھ سکتے ہیں۔ (5) (عالمگیری اگرچہ افضل ا س سے بچنا ہے۔ حدیث میں''چیتے کی کھال پر سوار ہونے کی ممانعت آئی ہے۔'' (6) 

    مسئلہ ۴۳: ناک مونھ پونچھنے کے لیے رومال رکھنا یا وضو کے بعد ہاتھ مونھ پونچھنے کے لیے رومال رکھنا جائز ہے، اسی طرح پسینہ پونچھنے کے لیے رومال رکھنا جائز ہے اور اگر براہ تکبر ہو تو منع ہے۔ (7) (عالمگیری)
عمامہ کا بیان
    عمامہ باندھنا سنت ہے، خصوصاً نماز میں کہ جو نماز عمامہ کے ساتھ پڑھی جاتی ہے، اس کا ثواب بہت زیادہ ہوتا ہے۔ عمامہ کے متعلق چند حدیثیں اوپر ذکر کی جاچکی ہیں۔

    مسئلہ ۱: عمامہ باندھے تو اس کا شملہ پیٹھ پر دونوں شانوں کے درمیان لٹکالے۔ شملہ کتنا ہونا چاہیے اس میں اختلاف ہے، زیادہ سے زیادہ اتنا ہو کہ بیٹھنے میں نہ دبے۔ (8) (عالمگیری)بعض لوگ شملہ بالکل نہیں لٹکاتے، یہ سنت کے خلاف ہے اور بعض شملہ کو اوپر لا کر عمامہ میں گھرس دیتے ہیں، یہ بھی نہ چاہیے خصوصاً حالتِ نماز میں ایسا ہے تو نماز مکروہ ہوگی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع في اللبس،ج۵،ص۳۳۳.

2۔۔۔۔۔۔ یعنی کھال کا کوٹ یا کُرتہ۔      3 ۔۔۔۔۔۔ یعنی بڑاچوہا۔ 

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب التاسع في اللبس،ج۵،ص۳۳۳.

5۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق.

6۔۔۔۔۔۔ ''المصنف'' لعبد الرزاق،کتاب الطہارۃ،باب جلود السباع، رقم:۲۲۰،ج۱،ص۵۴.

7۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع في اللبس،ج۵،ص۳۳۳.

8۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق،ص۳۳۰.
Flag Counter