Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
417 - 660
صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم تہبند پہنا کرتے تھے، پاجامہ پہننا ثابت نہیں۔ 

    مسئلہ ۳۸: مرد کو ایسا پاجامہ پہننا جس کے پائنچے کے اگلے حصے پشت قدم پر رہتے ہوں مکروہ ہے۔ کپڑوں میں اسبال یعنی اتنا نیچا کرتہ، جبہ، پاجامہ، تہبند پہننا کہ ٹخنے چھپ جائیں ممنوع ہے، یہ کپڑے آدھی پنڈلی سے لے کر ٹخنے تک ہوں یعنی ٹخنے نہ چھپنے پائیں۔ (1)(عالمگیری) 

    مگر پاجامہ یا تہبند بہت اونچا پہننا آج کل وہابیوں کا طریقہ ہے، لہٰذا اتنا اونچا بھی نہ پہنے کہ دیکھنے والا وہابی سمجھے۔ اس زمانے میں بعض لوگوں نے پاجامے بہت نیچے پہننے شروع کردیے ہیں کہ ٹخنے تو کیا ایڑیاں بھی چھپ جاتی ہیں، حدیث میں اس کی بہت سخت ممانعت آئی ہے، یہاں تک کہ ارشاد فرمایا:''ٹخنے سے جو نیچا ہو، وہ جہنم میں ہے۔''(2)

     اور بعض لوگ اتنا اونچا پہنتے ہیں کہ گھٹنے بھی کھل جاتے ہیں جس کو نیکر کہتے ہیں، یہ نصرانیوں سے سیکھا ہے،اونچا پہنتے ہیں تو گھٹنے کھول دیتے ہیں اور نیچا پہنتے ہیں تو ایڑیاں چھپا دیتے ہیں۔افراط و تفریط سے علیحدہ ہو کر مسنون طریقہ نہیں اختیار کرتے۔ 

    بعض لوگ چوڑی دار پاجامہ پہنتے ہیں، اس میں بھی ٹخنے چھپتے ہیں اور عضو کی پوری ہیأت نظر آتی ہے۔ عورتوں کو بالخصوص چوڑی دار پاجامہ نہیں پہننا چاہیے، عورتوں کے پاجامے ڈھیلے ڈھالے ہوں اور نیچے ہوں کہ قدم چھپ جائیں، ان کے لیے جہاں تک پاؤں کا زیاد ہ حصہ چھپے اچھا ہے۔ 

    مسئلہ ۳۹: موٹے کپڑے پہننا اور پرانا ہوجائے تو پیوند لگا کر پہننا اسلامی طریقہ ہے۔ (3) (عالمگیری)حدیث میں فرمایاکہ ''جب تک پیوند لگا کر پہن نہ لو، کپڑے کو پرانا نہ سمجھو۔''(4) 

    اور بہت باریک کپڑے نہ پہنے جس سے بدن کی رنگت جھلکے، خصوصاً تہبند کہ اگر یہ باریک ہے تو ستر عورت نہ ہوسکے گا۔ اس زمانہ میں ایک یہ بلا بھی پیدا ہوگئی ہے کہ ساڑی کا تہبند پہنتے ہیں جس سے بالکل ستر عورت نہیں ہوتا اور اسی کو پہن کر بعض لوگ نماز بھی پڑھتے ہیں اور ان کی نماز بھی نہیں ہوتی کہ ستر عورت نماز میں فرض ہے۔ بعض لوگ پاجامہ اور تہبند کی جگہ دھوتی باندھتے ہیں، دھوتی باندھنا ہندؤں کا طریقہ ہے اور ا س سے ستر عورت بھی نہیں ہوتا، چلنے میں ران کا پچھلا حصہ کھل جاتا ہے اور نظر آتا ہے۔ 

    مسئلہ ۴۰: سدل یعنی سریاشانے پر کپڑا ڈال کر اس کے کنارے لٹکائے رکھنا نماز میں مکروہ ہے، جس کا بیان گزرچکا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع في اللبس،ج۵،ص۳۳۳.

2۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''،کتاب اللباس، باب ما اسفل من الکعبین فھو في النار،الحدیث:۵۷۸۷،ج۴،ص۴۶.

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع في اللبس،ج۵،ص۳۳۳.

4۔۔۔۔۔۔ ''سنن الترمذی''،کتاب اللباس،باب ماجاء فی ترقیع الثوب ،الحدیث:۱۷۸۷،ج۳،ص۳۰۲.
Flag Counter