اور یہ ممانعت رنگ کی وجہ سے نہیں بلکہ عورتوں سے تشبہ ہوتا ہے اس وجہ سے ممانعت ہے، لہٰذا اگر یہ علت نہ ہو تو ممانعت بھی نہ ہوگی، مثلاً بعض رنگ اس قسم کے ہیں کہ عمامہ رنگا جاسکتا ہے اور کرتہ پاجامہ اسی رنگ سے رنگا جائے یا چادر رنگ کر اوڑھیں تو اس میں زنانہ پن ظاہر ہوتا ہے تو عمامہ کو جائز کہا جائے گا اور دوسرے کپڑوں کو مکروہ۔
مسئلہ ۳۵: جس کے یہاں میت ہوئی اسے اظہارِ غم میں سیاہ کپڑے پہننا ،ناجائز ہے۔ (1) (عالمگیری) سیاہ بلے لگانا(2) بھی ناجائز ہے کہ اولاً تو وہ سوگ کی صورت ہے، دوم یہ کہ نصاریٰ کا یہ طریقہ ہے۔
ایام محرم میں یعنی پہلی محرم سے بارہویں تک تین قسم کے رنگ نہ پہنے جائیں، سیاہ کہ یہ رافضیوں کا طریقہ ہے اور سبز کہ یہ مبتدعین یعنی تعزیہ داروں کا طریقہ ہے اور سُرخ کہ یہ خارجیوں کا طریقہ ہے ،کہ وہ معاذ اﷲاظہارِ مسرت کے لیے سُرخ پہنتے ہیں۔(3) (اعلیٰ حضرت قبلہ قدس سرہ،)
مسئلہ ۳۶: اون اور بالوں کے کپڑے انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت ہے۔ سب سے پہلے سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کپڑے پہنے۔ حدیث میں ہے کہ اون کے کپڑے پہن کر اپنے دلوں کو منور کرو کہ یہ دنیا میں مذلّت ہے اور آخرت میں نور ہے۔ (4) (عالمگیری)
اور صوف یعنی اون کے کپڑے، اولیائے کاملین اور بزرگانِ دین نے پہنے اور ان کو صوفی کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ صوف یعنی اون کے کپڑے پہنتے تھے۔ اگرچہ ان کے جسم پر کالی کملی ہوتی، مگر دل مخزن انوارِ الٰہی اور معدن اسرارِ نامتناہی ہوتا، مگر اس زمانے میں اون کے کپڑے بہت بیش قیمت ہوتے ہیں اور ان کا شمار لباسہائے فاخرہ میں ہوتا ہے، یہ چیزیں فقرا اور غربا کو کہاں ملیں، انھیں تو امرا و رؤسا استعمال کرتے ہیں۔
فقہا اور حدیث کا مقصد غالباً ان بیش قیمت اونی کپڑوں سے پورا نہ ہوگا، بلکہ وہی معمولی دیسی کمبل جو کم وقعت سمجھے جاتے ہیں، ان کے استعمال سے وہ بات پوری ہوگی۔
مسئلہ ۳۷: پاجامہ پہننا سنت ہے، کیونکہ اس میں بہت زیادہ ستر عورت ہے۔ (5) (عالمگیری)اس کو سنت بایں معنی کہا گیا ہے کہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اسے پسند فرمایا اور صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے پہنا۔ خود حضور اقدس