بالآخر عموماً ان سے تکبر پیدا ہوجایا کرتا ہے۔
مسئلہ ۲۹: فقہا وعلما کو ایسے کپڑے پہننے چاہیے کہ وہ پہچانے جائیں تاکہ لوگوں کو ان سے استفادہ (1)کا موقع ملے اور علم کی وقعت لوگوں کے ذہن نشین ہو۔ (2) (ردالمحتار)اور اگر اُس کو اپنا ذاتی تشخص و امتیاز مقصود ہو تو یہ مذموم ہے۔
مسئلہ ۳۰: کھانے کے وقت بعض لوگ گھٹنوں پر کپڑا ڈال لیتے ہیں تاکہ اگر شور باٹپکے تو کپڑے خراب نہ ہوں، جو کپڑا گھٹنوں پر ڈالا گیا اگر ریشم ہے تو ناجائز ہے۔ ریشم کا رومال ناک وغیرہ پونچھنے یا وضو کے بعد ہاتھ مونھ پونچھنے کے لیے جائز ہے یعنی جبکہ اس سے پونچھنے کا کام لے، رومال کی طرح اُسے نہ رکھے اور تکبر بھی مقصود نہ ہو۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۱: سونے چاندی کے بٹن کرتے یا اچکن میں لگانا جائز ہے، جس طرح ریشم کی گھنڈی جائز ہے۔ (4)(درمختار)یعنی جبکہ بٹن بغیر زنجیر ہوں اور اگر زنجیر والے بٹن ہوں تو ان کا استعمال ناجائز ہے کہ یہ زنجیر زیور کے حکم میں ہے، جس کا استعمال مرد کو ناجائز ہے۔
مسئلہ ۳۲: آشوب چشم (5)کی وجہ سے مونھ پر سیاہ ریشم کا نقاب ڈالنا جائز ہے کہ یہ عذر کی صورت ہے۔ (6)(درمختار)اس زمانے میں رنگین چشمے بکتے ہیں، جو دھوپ اور روشنی کے موقع پر لگائے جاتے ہیں، ایسا چشمہ ہوتے ہوئے ریشم کے استعمال کی ضرورت نہیں رہتی۔
مسئلہ ۳۳: نابالغ لڑکوں کو بھی ریشم کے کپڑے پہنانا حرام ہے اور گناہ پہنانے والے پر ہے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: کسم یا زعفران کا رنگا ہوا کپڑا پہننا مرد کو منع ہے گہرا رنگ ہو کہ سرخ ہوجائے یا ہلکا ہو کہ زرد رہے دونوں کا ایک حکم ہے۔ عورتوں کو یہ دونوں قسم کے رنگ جائز ہیں، ان دونوں رنگوں کے سوا باقی ہر قسم کے رنگ زرد، سرخ، دھانی، بسنتی، چمپئی، نارنجی وغیرہا مردوں کو بھی جائز ہیں۔ اگرچہ بہتر یہ ہے کہ سرخ رنگ یا شوخ رنگ کے کپڑے مرد نہ پہنے، خصوصاً جن رنگوں میں زنانہ پن ہو مرد اس کو بالکل نہ پہنے۔ (8) (درمختار، ردالمحتار)