گوٹے لچکے(1)، اگر چہ کتنے ہی چوڑے ہوں جائز ہیں اور مغرق (2)اور غیر مغرق کا فرق بھی مردوں ہی کے لیے ہے۔ عورتوں کے لیے مطلقاً جائز ہے۔ (3) (المستفاد من ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: زری کی بناوٹ کا جو حکم ہے وہی اس کے نقش و نگار کا بھی ہے، اب بھی زری کی ٹوپیاں بعض لوگ پہنتے ہیں، اگر کام کے درمیان سے کپڑا نظر آتا ہو تو چونکہ ایک جگہ چار انگل نہیں ہے جائز ہے اور مغرق ہو کہ بالکل کام لِسا ہوا ہو(4)تو چار انگل سے زیادہ ناجائز ہے۔ اسی طرح کامدانی (5)کہ کپڑا زری کے کام سے چھپ گیا ہو تو چار انگل سے زیادہ جب ایک جگہ ہو ناجائز ہے، ورنہ جائز۔
مسئلہ ۱۸: کمر کی پیٹی ریشم کی ہو تو ناجائز ہے اور اگر سوتی ہو، اس میں ریشم کی دھاری ہو اور چار انگل تک ہو تو جائز ہے۔ (6) (عالمگیری) کلابتو (7)کی پیٹی ناجائز ہے۔ بعض رؤسا اپنے سپاہیوں اور چپراسیوں کی پیٹیاں اس قسم کی بنواتے ہیں، ان کو بچنا چاہیے۔
مسئلہ ۱۹: ریشم کی مچھر دانی مردوں کے لیے بھی جائز ہے، کیونکہ اس کا استعمال پہننے میں داخل نہیں۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۲۰: ریشم کے کپڑے میں تعویذ سی کر گلے میں لٹکانا یا بازو پر باندھنا ناجائز ہے کہ یہ پہننے میں داخل ہے۔ اسی طرح سونے اور چاندی میں رکھ کر پہننا بھی ناجائز ہے اور چاندی یا سونے ہی پر تعویذ کھدا ہوا ہو، یہ بدرجہ اَولیٰ ناجائز ہے۔
مسئلہ ۲۱: ریشم کی ٹوپی اگرچہ عمامہ کے نیچے ہو، یہ بھی ناجائز ہے۔ اسی طرح زری کی ٹوپی بھی ناجائزہے، اگرچہ عمامہ کے نیچے ہو۔ (9) (درمختار، ردالمحتار)زریں کلاہ جو افغانی اور سرحدی اور پنجابی عمامہ کے نیچے پہنتے ہیں اور وہ مغرق ہوتی ہے اور اس کا کام چار انگل سے زیادہ ہوتا ہے یہ ناجائز ہے، ہاں اگرچار انگل یا کم ہو تو جائز ہے۔
مسئلہ ۲۲: ریشم کا کمر بند ممنوع ہے۔ ریشم کے ڈورے میں تسبیح گوندھی جائے تو اُس کو گلے میں ڈالنا منع ہے۔ اسی طرح گھڑی کا ڈورا ریشم کا ہو تو اس کو گلے میں ڈالنا یا ریشم کی چین کا ج میں ڈال کر لٹکانا بھی ممنوع ہے، ریشم کا ڈورا یا فیتا کلائی پر