Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
412 - 660
میں سے کوئی بھی ریشم ہو تو ناجائز ہے۔ اسی طرح ٹوپی کا استر بھی ریشم کا ناجائز ہے اور ٹوپی میں ریشم کا کنارہ چار انگل تک جائز ہے۔ (1) (ردالمحتار)

    مسئلہ ۱۳: ٹوپی میں لیس لگائی گئی یا عمامہ میں گوٹا لچکا لگایا گیا، اگر یہ چار انگل سے کم چوڑا ہے جائز ہے ورنہ نہیں۔ 

    مسئلہ ۱۴: متفرق جگہوں پر ریشم کا کام ہے، تواس کو جمع نہیں کیاجائے گا یعنی اگرایک جگہ چار انگل سے زیادہ نہیں ہے مگر جمع کریں تو زیادہ ہوجائے گا یہ ناجائز نہیں، لہٰذا کپڑے کی بناوٹ میں جگہ جگہ ریشم کی دھاریاں ہوں تو جائز ہے، جبکہ ایک جگہ چار انگل سے زیادہ چوڑی کوئی دھاری نہ ہو۔ یہی حکم نقش و نگار کا ہے کہ ایک جگہ چار انگل سے زیادہ نہ ہونا چاہیے ۔

    اور اگر پھول یا کام اس طرح بنایا ہے کہ ریشم ہی ر یشم نظر آتا ہو جس کو مغرق کہتے ہیں، جس میں کپڑا نظر ہی نہیں آتا تو اس کام کو متفرق نہیں کہا جاسکتا۔ اس قسم کا ریشم یا زری کا کام ٹوپی یا اچکن یا صدری یا کسی کپڑے پر ہو اور چار انگل سے زائد ہو تو ناجائز ہے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)دھاریوں کے لیے چار انگل سے زیادہ نہ ہونا، اس وقت ضروری ہے کہ بانے میں دھاریاں ہوں اور اگر تانے میں ہوں اور بانا سوت ہو تو چار انگل سے زیادہ ہونے کی صورت میں بھی جائز ہے۔ 

    مسئلہ ۱۵: کپڑا اس طرح بُنا گیا کہ ایک تاگا سوت ہے اور ایک ریشم، مگر دیکھنے میں بالکل ریشم معلوم ہوتا ہے یعنی سوت نظر نہیں آتا یہ ناجائز ہے۔ (3) (ردالمحتار)

    مسئلہ ۱۶: سونے چاندی سے کپڑا بُنا جائے جیسا کہ بنارسی کپڑے میں زری بنی جاتی ہے۔ کمخواب اور پوت میں زری ہوتی ہے اور اسی طرح بنارسی عمامہ کے کنارے اور دونوں طرف کے حاشیے زری کے ہوتے ہیں ان کا یہ حکم ہے کہ اگر ایک جگہ چار انگل سے زیادہ ہو تو ناجائز ہے، ورنہ جائز، مگر کمخواب اور پوت میں چونکہ تانا بانا (4)دونوں ریشم ہوتا ہے، لہٰذا زری اگرچہ چار انگل سے کم ہو، جب بھی ناجائز ہے۔ 

    ہاں اگر سوتی کپڑا ہوتا یا تانا ریشم اور بانا سوت ہوتا اور اُس میں زری بنی جاتی تو چار انگل تک جائز ہوتا۔ جیسا کہ عمامہ سوت کا ہوتا ہے اور اس میں زری بنی جاتی ہے، اس کا یہی حکم ہے کہ ایک جگہ چار انگل سے زیادہ ناجائز ہے، یہ حکم مردوں کے لیے ہے۔ عورتوں کے لیے ریشم اور سونا چاندی پہننا جائز ہے، ان کے لیے چار انگل کی تخصیص نہیں ۔ اسی طرح عورتوں کے لیے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۸۱.

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،۹،ص۵۸۲.

3۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في اللبس،ج۹،ص۵۸۲.

4۔۔۔۔۔۔ وہ دھاگے جو کپڑا بُننے میں لمبائی اور چوڑائی میں دیئے جاتے ہیں۔
Flag Counter