مسلم کی روایت میں ہے کہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کا تکیہ چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری تھی۔''(1)
حدیث ۴۸: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''ایک بچھونا مرد کے لیے اور ایک اُس کی زوجہ کے لیے اور تیسرا مہمان کے لیے اور چوتھا شیطان کے لیے۔''(2) یعنی گھر کے آدمیوں اور مہمانوں کے لیے بچھونے جائز ہیں اور حاجت سے زیادہ نہ چاہیے۔
مسئلہ ۱: اتنا لباس جس سے ستر عورت ہوجائے اور گرمی سردی کی تکلیف سے بچے فرض ہے اور اس سے زائد جس سے زینت مقصود ہو اور یہ کہ جبکہ اﷲ(عزوجل)نے دیا ہے تو اُس کی نعمت کا اظہار کیا جائے۔ یہ مستحب ہے خاص موقع پر مثلاً جمعہ یا عید کے دن عمدہ کپڑے پہننا مباح ہے۔ اس قسم کے کپڑے روز نہ پہنے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اِترانے لگے اور غریبوں کو جن کے پاس ایسے کپڑے نہیں ہیں نظر حقارت سے دیکھے، لہٰذا اس سے بچنا ہی چاہیے ۔
اور تکبر کے طور پر جو لباس ہو وہ ممنوع ہے، تکبر ہے یا نہیں اس کی شناخت یوں کرے کہ ان کپڑوں کے پہننے سے پہلے اپنی جو حالت پاتا تھا اگر پہننے کے بعد بھی وہی حالت ہے تو معلوم ہوا کہ ان کپڑوں سے تکبر پیدا نہیں ہوا۔ اگر وہ حالت اب باقی نہیں رہی تو تکبر آگیا۔ لہٰذا ایسے کپڑے سے بچے کہ تکبر بہت بری صفت ہے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲: بہتر یہ ہے کہ اونی یا سوتی یا کتان کے کپڑے بنوائے جائیں جو سنت کے موافق ہوں، نہ نہایت اعلیٰ درجہ کے ہوں نہ بہت گھٹیا، بلکہ متوسط (4)قسم کے ہوں کہ جس طرح بہت اعلیٰ درجہ کے کپڑوں سے نمود (5) ہوتی ہے، بہت گھٹیا کپڑے پہننے سے بھی نمائش ہوتی ہے۔ لوگوں کی نظریں اُٹھتی ہیں سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی صاحبِ کمال اور تارک الدنیا شخص ہیں۔ سفید کپڑے بہتر ہیں کہ حدیث میں ا س کی تعریف آئی ہے اور سیاہ کپڑے بھی بہتر ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم فتح مکہ کے دن جب مکہ معظمہ میں تشریف لائے تو سراقدس پر سیاہ عمامہ تھا۔ سبز کپڑوں کو بعض کتابوں میں سنت لکھا ہے۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: سنت یہ ہے کہ دامن کی لمبائی آدھی پنڈلی تک ہو اور آستین کی لمبائی زیادہ سے زیادہ انگلیوں کے پوروں تک اور چوڑائی ایک بالشت ہو۔ (7) (ردالمحتار)اس زمانہ میں بہت سے مسلمان پاجامہ کی جگہ جانگھیا (8) پہننے لگے ہیں۔ اس