حدیث ۴۲: ابو داود نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ان عورتوں پر لعنت کی جو مردوں سے تشبہ کریں اور ان مردوں پر جو عورتوں سے تشبہ کریں۔ (1)
حدیث ۴۳: ابو داود نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اس مرد پر لعنت کی، جو عورت کا لباس پہنتا ہے اور اس عورت پر لعنت کی، جو مردانہ لباس پہنتی ہے۔ (2)
حدیث ۴۴: ابو داود عمران بن حصین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''نہ میں سرخ زین پوش پر سوار ہوتا ہوں اور نہ کسم کا رنگا ہوا کپڑا پہنتا ہوں اور نہ وہ قمیص پہنتا ہوں، جس میں ریشم کا کف لگا ہوا ہو (یعنی چار انگل سے زائد)، سن لو!مردوں کی خوشبو وہ ہے، جس میں بو ہو اور رنگ نہ ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے، جس میں رنگ ہو، بو نہ ہو۔''(3)
یعنی مردوں میں خوشبو مقصود ہوتی ہے، اس کا رنگ نمایاں نہ ہونا چاہیے کہ بدن یا کپڑے رنگین ہوجائیں اور عورتیں ہلکی خوشبو استعمال کریں کہ یہاں زینت مقصود ہوتی ہے اور یہ رنگین خوشبو مثلاً خلوق سے حاصل ہوتی ہے، تیز خوشبو سے خواہ مخواہ لوگوں کی نگاہیں اٹھیں گی۔
حدیث ۴۵: ترمذی نے ابو رمثہ تیمی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہتے ہیں کہ میں نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)دو ۲ سبز کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ (4)
حدیث ۴۶: ابو داود نے دحیہ بن خلیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں چند قبطی کپڑے لائے گئے، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ایک مجھے دیا اور یہ فرمایاکہ ''اس کے دو ٹکڑے کرلو، ایک ٹکڑے کی قمیص بنوالو اور ایک اپنی بی بی کو دے دینا، وہ اوڑھنی بنالے گی۔''جب یہ چلے تو حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایاکہ ''اپنی بی بی سے کہہ دینا کہ اس کے نیچے کوئی دوسرا کپڑا لگالے تاکہ بدن نہ جھلکے۔''(5)
حدیث ۴۷: صحیح بخاری و مسلم میں عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کا بچھونا جس پر آرام فرماتے تھے، چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔''(6)