پھر یہ کہا کہ میں نے رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کو یہی پڑھتے ہوئے سنا۔ (4)
حدیث ۴۰: امام احمدو ترمذی و ابن ماجہ نے ابوامامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ نے نیا کپڑا پہنا اور یہ پڑھا:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ مَا اُوَارِیْ بِہٖ عَوْرَتِیْ وَاَ تَجَمَّلُ بِہٖ فِیْ حَیَا تِیْ .
(5) پھر یہ کہا کہ میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے سنا ہے، کہ جو شخص نیاکپڑاپہنتے وقت یہ پڑھے اور پرانے کپڑے کو صدقہ کر دے، وہ زندگی میں اور مرنے کے بعداﷲ تعالٰی کے کنف و حفظ و ستر میں رہے گا۔ (6)تینوں لفظ کے ایک ہی معنی ہیں یعنی اﷲ تعالٰیاُس کا حافظ و نگہبان ہے۔
حدیث ۴۱: امام احمد و ابو داود نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص جس قوم سے تشبہ کرے، وہ انھیں میں سے ہے۔''(7)یہ حدیث ایک اصل کلی ہے۔ لباس و عادات و اطوار میں کن لوگوں سے مشابہت کرنی چاہیے اور کن سے نہیں کرنی چاہیے۔ کفار و فساق و فجار سے مشابہت بری ہے اور اہل صلاح و تقویٰ کی مشابہت اچھی ہے پھر اس تشبہ کے بھی درجات ہیں اور انھیں کے اعتبار سے احکام بھی مختلف ہیں۔ کفار و فساق سے تشبہ کا ادنیٰ مرتبہ کراہت ہے، مسلمان اپنے کو ان لوگوں سے ممتاز رکھے کہ پہچانا جاسکے اور غیر مسلم کا شبہ اس پر نہ ہوسکے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں،جس نے مجھے یہ (لباس) پہنایا اور میری طاقت و قوت کے بغیر یہ عطا فرمایا۔
2۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''،کتاب اللباس، باب مایقول اذا لبس ثوبا جدیدا،الحدیث:۴۰۲۳،ج۴،ص۵۹.
و''المستدرک''للحاکم،کتاب اللباس،باب الدعاء عند فراغ الطعام،الحدیث:۷۴۸۶،ج۵،ص۲۷۰.
و''مشکوۃالمصابیح''کتاب اللباس،الفصل الثانی،الحدیث۴۳۴۳،ج۲،ص۱۱۷.
3۔۔۔۔۔۔ اﷲ تعالٰی کا شکر ہے،جس نے مجھے وہ لباس پہنایا جس سے میں اپنا ستر ڈھانپتا ہوں اور اپنی زندگی میں اس سے زینت کرتا ہوں۔
4۔۔۔۔۔۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند علی بن أبي طالب،الحدیث:۱۳۵۲،ج۱،ص۳۳۱.
5۔۔۔۔۔۔ تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں،جس نے مجھے وہ لباس عطا فرمایا جس سے میں لوگوں میں زینت کرتا ہوں اور اپنا ستر ڈھانپتا ہوں۔
6۔۔۔۔۔۔ ''سنن الترمذي''، احادیث شتی،باب۱۰۷:(۱۲۱)،الحدیث:۳۵۷۱،ج۵،ص۳۲۷.
7۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''،کتاب اللباس، باب في لبس الشھرۃ،الحدیث:۴۰۳۱،ج۴،ص۶۲.