یہاں تشریف لائے، ایک شخص کو پراگندہ سر دیکھا، جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں، فرمایا:''کیا اس کو ایسی چیز نہیں ملتی جس سے بالوں کو اکٹھا کرلے اور دوسرے شخص کو میلے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا فرمایا:کیا اسے ایسی چیز نہیں ملتی، جس سے کپڑے دھولے۔''(1)
حدیث ۲۷: ترمذی نے عبداﷲ ابن عَمْرْورضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''اﷲتعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ اس کی نعمت کا اثر بندہ پر ظاہر ہو۔''(2)
حدیث ۲۸: امام احمد و نسائی نے ابو الاحوص سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہتے ہیں:میں رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے کپڑے گھٹیا تھے۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''کیا تمھارے پاس مال نہیں ہے؟ میں نے عرض کی، ہاں ہے۔ فرمایا:کس قسم کا مال ہے؟ میں نے عرض کی، خدا کا دیا ہوا ہر قسم کا مال ہے۔ اونٹ، گائے، بکریاں، گھوڑے، غلام۔ فرمایا:جب خدا نے تمھیں مال دیا ہے تو اس کی نعمت و کرامت کا اثر تم پر دکھائی دینا چاہیے۔''(3)
حدیث ۲۹: صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عمر و انس و ابن زبیر و ابو امامہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے مروی، نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو دنیا میں ریشم پہنے گا، وہ آخرت میں نہیں پہنے گا۔'' (4)
حدیث ۳۰: صحیح بخاری و مسلم میں ابن عمررضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو دنیا میں ریشم پہنے گا، اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔'' (5)
حدیث ۳۱: صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ریشم پہننے کی ممانعت فرمائی، مگر اتنا۔ اور رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے دو ۲ ا نگلیاں بیچ والی اور کلمہ کی انگلیوں کو ملا کر اشارہ کیا۔''(6)
صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر(رضی اللہ تعالٰی عنہ)نے خطبہ میں فرمایا:رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ریشم کی ممانعت فرمائی ہے، مگر دو ۲ یا تین یا چار اُنگلیوں کی برابر یعنی کسی کپڑے میں اتنی چوڑی ریشم کی گوٹ لگائی جاسکتی ہے۔ (7)
حدیث ۳۲: صحیح مسلم میں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے مروی ہے، انھوں نے ایک کسروانی جبہ نکالا،