حدیث ۲۰: بیہقی نے شعب الایمان میں عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''عمامہ باندھنا اختیار کرو کہ یہ فرشتوں کا نشان ہے اور اس کو پیٹھ کے پیچھے لٹکالو۔'' (1)
حدیث ۲۱: ترمذی نے رکانہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایاکہ ''ہمارے اور مشرکین کے مابین یہ فرق ہے کہ ہمارے عمامہ ٹوپیوں پر ہوتے ہیں۔''(2)
حدیث ۲۲: ترمذی نے عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ر وایت کی، کہتی ہیں:حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے مجھ سے یہ فرمایا:''عائشہ!اگر تم مجھ سے ملنا چاہتی ہو تو دنیا سے اتنے ہی پر بس کرو جتنا سوار کے پاس توشہ ہوتا ہے اور مال داروں کے پاس بیٹھنے سے بچو اور کپڑے کو پرانا نہ سمجھو، جب تک پیوند نہ لگالو۔''(3)
حدیث ۲۳: ابو داود نے ابو امامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''کیا سنتے نہیں ہو، کیا سنتے نہیں ہو؟ ردی حالت میں ہونا (4) ایمان سے ہے، ردی حالت میں ہونا ایمان سے ہے۔''(5)
حدیث ۲۴: امام احمد و ابو داود و ابن ماجہ نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص شہ رت کا کپڑا پہنے، قیامت کے دن اﷲتعالٰی اُس کو ذلت کا کپڑا پہنائے گا۔''(6)
لباس شہ رت سے مراد یہ ہے کہ تکبر کے طور پر اچھے کپڑے پہنے یا جو شخص درویش نہ ہو، وہ ایسے کپڑے پہنے جس سے لوگ اسے درویش سمجھیں یا عالم نہ ہو اور علما کے سے کپڑے پہن کر لوگوں کے سامنے اپنا عالم ہونا جتاتا ہے یعنی کپڑے سے مقصود کسی خوبی کا اظہار ہو۔
حدیث ۲۵: ابو داود نے ایک صحابی سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو باوجود قدرت اچھے کپڑے پہننا تواضع کے طور پر چھوڑ دے، اﷲتعالیٰ اس کو کرامت کا حُلّہ پہنائے گا۔''(7)
حدیث ۲۶: امام احمد و نسائی جابررضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، کہتے ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم ہمارے