مسئلہ ۷: دیانات میں مخبر (1)کا عادل ہونا ضروری ہے۔ دیانات سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کا تعلق بندہ اور رب کے مابین ہے۔ مثلاً حلت، حرمت، نجاست، طہارت اور اگر دیانت کے ساتھ زوالِ ملک بھی ہو مثلاً میاں بی بی کے متعلق کسی نے یہ خبر دی کہ یہ دونوں رضاعی بھائی بہن ہیں تو اس کے ثبوت کے لیے فقط عدالت کافی نہیں، بلکہ عدد اور عدالت دونوں چیزیں درکار ہیں یعنی خبر دینے والے دو ۲ مرد یا ایک مرد دو ۲ عورتیں ہوں اور یہ سب عادل ہوں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: پانی کے متعلق کسی مسلم عادل نے یہ خبر دی کہ یہ نجس ہے تو اس سے وضو نہ کرے، بلکہ اگر دوسرا پانی نہ ہو تو تیمم کرے اور اگر فاسق یا مستور (3)نے خبر دی کہ پانی نجس ہے تو تحری (غور)کرے اگر دل پر یہ بات جمتی ہے کہ سچ کہتا ہے تو پانی کو پھینک دے اور تیمم کرے وضو نہ کرے اور اگر غالب گمان یہ ہے کہ جھوٹ کہتا ہے تو وضو کرے اور احتیاط یہ ہے کہ وضو کے بعد تیمم بھی کرلے اور اگر کافر نے نجاست کی خبر دی اور غالب گمان یہ ہے کہ سچ کہتا ہے جب بھی بہتر یہ ہے کہ اسے پھینک دے پھر تیمم کرے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۹: ایک عادل نے یہ خبر دی کہ پاک ہے اور دوسرے عادل نے نجاست کی خبر دی یا ایک نے خبر دی کہ یہ مسلم کا ذبیحہ ہے اور دوسرے نے یہ کہ مشرک کا ذبیحہ ہے، اس میں بھی تحری کرے، جدھر غالب گمان ہو اُس پر عمل کرے۔ (5) (ردالمحتار)