مسئلہ ۲: معاملات میں کافر کی خبر معتبر ہونا اس وقت ہے، جب غالب گمان یہ ہو کہ سچ کہتا ہے اور اگر غالب گمان اس کا جھوٹا ہونا ہو تو اس پر عمل نہ کرے۔ (1) (جوہرہ)
مسئلہ ۳: گوشت خریدا پھر یہ معلوم ہوا کہ جس سے خریدا ہے وہ مشرک ہے، پھیرنے (2)کو لے گیا، اس نے کہا کہ اس جانور کو مسلم نے ذبح کیا ہے، اب بھی اس گوشت کو کھانا ممنوع ہے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۴: لونڈی غلام اور بچے کی ہدیہ کے متعلق خبر معتبر ہے، مثلاً بچے نے کسی کے پاس کوئی چیز لا کر یہ کہا کہ میرے والد نے آپ کے پاس یہ ہدیہ بھیجا ہے، وہ شخص چیز کو لے سکتا ہے اور اس میں تصرف کرسکتا ہے، کھانے کی چیز ہو تو کھاسکتا ہے۔ اسی طرح لونڈی غلام نے کوئی چیز دی اور یہ کہا کہ میرے مولیٰ نے یہ چیز ہدیہ بھیجی ہے، بلکہ یہ دونوں خود اپنے متعلق اس کی خبر دیں کہ ہمارے مولیٰ نے خود ہمیں ہدیہ کیا ہے یہ خبر بھی مقبول ہے۔ فرض کرو لونڈی نے یہ خبر دی تو اس سے یہ شخص وطی بھی کرسکتا ہے۔ (4) (زیلعی)
مسئلہ ۵: ان لوگوں نے یہ خبر دی کہ ہمارے ولی یا مولیٰ نے ہمیں خریدنے کی اجازت دی ہے یہ خبر بھی معتبر ہے، جبکہ غالب گمان ان کی سچائی ہو، لہٰذا بچہ نے کوئی چیز خریدی مثلاً نمک، مرچ، ہلدی، دھنیا اور کہتا ہے ہم کو اس کی اجازت ہے تو اس کے ہاتھ اس چیز کو بیچ سکتے ہیں اور اگر غالب گمان یہ ہو کہ جھوٹ کہتا ہے تو اس کی بات کا اعتبار نہ کیا جائے۔ مثلاًاسے چند پیسوں کی مٹھائی یا پھل وغیرہ خریدنا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ مجھے اجازت ہے اس کا اعتبار نہ کیا جائے، جبکہ اس صورت میں بظاہر یہ معلوم ہوتا ہو کہ اُس کو پیسے اس لیے نہیں ملے ہیں کہ مٹھائی وغیرہ خرید کر کھالے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)یعنی جبکہ گمان غالب یہ ہو کہ اسے خریدنے کی اجازت نہیں ہے، مثلاً یہ گمان ہے کہ چھپا کر لایا ہے، مٹھائی خرید رہا ہے، اس کے گھر والے ایسے کہاں ہیں کہ مٹھائی کھانے کو پیسے دے دیں اس صورت میں اس کے ہاتھ مٹھائی کا بیچنا بھی ناجائز ہے۔
مسئلہ ۶: کافر یا فاسق نے یہ خبر دی کہ میں فلاں شخص کا اس چیز کے بیچنے میں وکیل ہوں، اس کی خبر اعتبار کی جاسکتی ہے اور اُس چیز کو خریدسکتے ہیں۔ اسی طرح دیگر معاملات میں بھی ان کی خبریں مقبول ہیں، جبکہ ظن غالب یہ ہو کہ سچ کہتا ہے۔ (6) (درمختار)