Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
398 - 660
    مسئلہ ۱۵: کپڑے میں سونے چاندی کے حروف بنائے گئے، اس کے استعمال کا بھی وہی حکم ہے۔ (1) (درمختار) اس میں تفصیل ہے جو لباس کے بیان میں آئے گی۔ 

    مسئلہ ۱۶: ٹوٹے ہوئے برتن کو چاندی یا سونے کے تار سے جوڑنا، جائز ہے اور اُس کا استعمال بھی جائز ہے، جبکہ اُس جگہ سے استعمال نہ کرے۔ جیساکہ حدیث میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کا لکڑی کا پیالہ تھا، وہ ٹوٹ گیا تو چاندی کے تار سے جوڑا گیا۔ (2)اور یہ پیالہ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس تھا۔ (3)
خبر کہاں معتبر ہے؟
    اللہ عزوجل فرماتا ہے:
     (یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِیۡبُوۡا قَوْمًۢا بِجَہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوۡا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیۡنَ ﴿۶﴾)
 (4) 

    ''اے ایمان والو!اگر فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لائے تو اُسے خوب جانچ لو، کہیں ایسا نہ ہو کہ ناواقفی میں کسی قوم کو تکلیف پہنچا دو پھر تمھیں اپنے کیے پر شرمندہ ہونا پڑے۔''

    مسئلہ ۱: اپنے نوکر یا غلام کو گوشت لانے کے لیے بھیجا، اگرچہ یہ مجوسی یا ہندو ہو وہ گوشت لایا اور کہتا ہے کہ مسلمان یا کتابی سے خرید کر لایا ہوں تو یہ گوشت کھایا جاسکتا ہے اور اگر اس نے آ کریہ کہا کہ مشرک مثلاً مجوسی یا ہندو سے خرید کر لایا ہوں تو اس گوشت کا کھانا حرام ہے کہ خریدنا بیچنا معاملات میں ہے اور معاملات میں کافر کی خبر معتبر ہے، اگرچہ حلَّت و حرمت (5)دِیانات (6)میں سے ہیں اور دیانات میں کافر کی خبر نامقبول ہے، مگر چونکہ اصل خبر خریدنے کی ہے اور حلت و حرمت اس مقام پر ضمنی چیزہے، لہٰذا جب وہ خبر معتبر ہوئی تو ضمناًیہ بھی ثابت ہوجائے گی اور اصل خبر حلت و حرمت کی ہوتی تو نامعتبر ہوتی۔ (7) (ہدایہ، درمحتار)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۸. 

2۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''،کتاب فرض الخمس، باب ما ذکر...إلخ، الحدیث:۳۱۰۹،ج۲،ص۳۴۴. 

3۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأشربۃ، باب الشرب...إلخ، الحدیث:۵۶۳۸،ج۳،ص۵۹۵. 

4۔۔۔۔۔۔ پ۲۶، الحجرٰت: ۶. 

5۔۔۔۔۔۔ یعنی حلال و حرام ہونا۔         6۔۔۔۔۔۔ اس کی وضاحت صفحہ 400 پر آرہی ہے۔ 

7۔۔۔۔۔۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في الأکل و الشرب،ج۲،ص۳۶۴. 

و''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۹.
Flag Counter