مسئلہ ۱۱: چاندی سونے کا کرسی یا تخت میں کام بنا ہوا ہے یا زین میں کام بنا ہوا ہے توا س پر بیٹھنا جائز ہے، جبکہ سونے چاندی کی جگہ سے بچ کر بیٹھے۔ محصل (1)یہ ہے کہ جو چیز خالص سونے چاندی کی ہے، اُس کا استعمال مطلقاً ناجائز ہے اور اگر اس میں جگہ جگہ سونا چاندی ہے تو اگر موضع استعمال میں ہے تو ناجائز، ورنہ جائز۔ مثلاً چاندی کی انگیٹھی سے بخور کرنا مطلقاً ناجائز ہے، اگرچہ دھونی لیتے وقت اس کو ہاتھ بھی نہ لگائے۔ اسی طرح اگر حقہ کی فرشی(2)چاندی کی ہے تو اس سے حقہ پینا ناجائز ہے، اگرچہ یہ شخص فرشی پر ہاتھ نہ لگائے ۔
اسی طرح حقہ کی مونھ نال(3)سونے چاندی کی ہے تو اس سے حقہ پینا ناجائز ہے اور اگر نیچہ(4)پر جگہ جگہ چاندی سونے کا تار ہو تو اس سے حقہ پی سکتا ہے، جبکہ استعمال کی جگہ پر تار نہ ہو۔ کرسی میں استعمال کی جگہ بیٹھنے کی جگہ ہے اور اس کا تکیہ ہے جس سے پیٹھ لگاتے ہیں اور اس کے دستے ہیں جن پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ تخت میں موضع استعمال بیٹھنے کی جگہ ہے۔ اسی طرح زین میں اور رکاب بھی سونے چاندی کی ناجائز ہے اور اس میں کام بنا ہوا ہو تو موضع استعمال میں نہ ہو۔ یہی حکم لگام اور دُمچی (5)کا ہے۔ (6) (ہدایہ، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: برتن پر سونے چاندی کا مُلمّع ہو (7)تو اس کے استعمال میں حرج نہیں۔ (8) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۳: آئینہ کا حلقہ جو بوقتِ استعمال پکڑنے میں نہ آتا ہو اس میں سونے چاندی کا کام ہو، اس کا بھی وہی حکم ہے۔ (9) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۱۴: تلوار کے قبضے میں اور چھری یا پیش قبض (10)کے دستے میں چاندی یا سونے کا کام ہے تو ان کا بھی وہی حکم ہے۔ (11) (ہدایہ، درمختار)