مسئلہ ۵: چائے کے برتن سونے چاندی کے استعمال کرنا ناجائز ہے۔ اسی طرح سونے چاندی کی گھڑی ہاتھ میں باندھنا بلکہ اس میں وقت دیکھنا بھی ناجائز ہے، کہ گھڑی کا استعمال یہی ہے کہ اس میں وقت دیکھا جائے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶: سونے چاندی کی چیزیں محض مکان کی آرائش و زینت کے لیے ہوں، مثلاً قرینہ سے (2) یہ برتن و قلم و دوات لگا دیے، کہ مکان آراستہ ہوجائے اس میں حرج نہیں۔ یوہیں سونے چاندی کی کرسیاں یا میز یا تخت وغیرہ سے مکان سجا رکھا ہے، ان پر بیٹھتا نہیں ہے تو حرج نہیں۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: بچوں کو بسم اﷲ پڑھانے کے موقع پر چاندی کی دوات قلم تختی لا کر رکھتے ہیں، یہ چیزیں استعمال میں نہیں آتیں، بلکہ پڑھانے والے کو دے دیتے ہیں، اس میں حرج نہیں۔
مسئلہ ۸: سونے چاندی کے سوا ہر قسم کے برتن کا استعمال جائز ہے، مثلاً تانبے، پیتل، سیسہ، بلور وغیرہا۔ مگر مٹی کے برتنوں کا استعمال سب سے بہتر کہ حدیث میں ہے کہ ''جس نے اپنے گھر کے برتن مٹی کے بنوائے، فرشتے اُس کی زیارت کو آئیں گے۔'' تانبے اور پیتل کے برتنوں پر قلعی ہونی چاہیے، بغیر قلعی ان کے برتن استعمال کرنا مکروہ ہے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: جس برتن میں سونے چاندی کا کام بنا ہوا ہے اس کا استعمال جائز ہے، جبکہ موضع استعمال (5)میں سونا چاندی نہ ہو، مثلاً کٹورے یا گلاس میں چاندی کا کام ہو تو پانی پینے میں اس جگہ مونھ نہ لگے جہاں سونا یا چاندی ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ وہاں ہاتھ بھی نہ لگے، اور قول اول اصح ہے۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: چھڑی کی موٹھ (7)سونے چاندی کی ہو تو اس کا استعمال ناجائز ہے۔ کیونکہ اس میں استعمال کا طریقہ یہ ہے کہ موٹھ پر ہاتھ رکھا جاتا ہے، لہٰذا موضع استعمال میں سونا چاندی ہوئی اور اگر اُس کی شام (8)سونے چاندی کی ہو، دستہ سونے چاندی کا نہ ہو تو استعمال میں حرج نہیں، کیونکہ ہاتھ رکھنے کی جگہ پر سونا چاندی نہیں ہے۔ اسی طرح قلم کی نب اگر سونے چاندی کی ہو تو اس سے لکھنا ناجائز ہے کہ وہی موضع استعمال ہے اور اگر قلم کے بالائی حصہ میں ہو تو ناجائز نہیں۔