Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
391 - 660
    اور ایک روایت میں یہ ہے کہ ''جو شخص اﷲ(عزوجل)اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ صلہ رحمی کرے۔'' (1) 

    حدیث ۱۴: صحیح بخاری و مسلم میں ابو شریح کعبی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے  مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّمنے فرمایاکہ ''جو شخص اﷲ(عزوجل)اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ مہمان کا اکرام کرے، ایک دن رات اُس کا جائزہ ہے (یعنی ایک دن اس کی پوری خاطر داری کرے، اپنے مقدور بھر اس کے لیے تکلف کا کھانا طیار کرائے) اور ضیافت تین دن ہے (یعنی ایک دن کے بعد ماحضر پیش کرے)اور تین دن کے بعد صدقہ ہے، مہمان کے لیے یہ حلال نہیں کہ اس کے یہاں ٹھہرا رہے کہ اسے حرج میں ڈال دے۔'' (2) 

    حدیث ۱۵: ترمذی ابی الاحوص جشمی سے وہ اپنے والد سے ر وایت کرتے ہیں، کہتے ہیں:میں نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)یہ فرمائیے کہ میں ایک شخص کے یہاں گیا، اس نے میری مہمانی نہیں کی، اب وہ میرے یہاں آئے تو اس کی مہمانی کروں یا بدلا دوں۔ ارشاد فرمایا:''بلکہ تم اس کی مہمانی کرو۔''(3) 

    حدیث ۱۶: ابن ماجہ نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''سنت یہ ہے کہ مہمان کو دروازہ تک رخصت کرنے جائے۔'' (4)
مسائل فقہیہ
    دعوتِ ولیمہ سنت ہے۔ ولیمہ یہ ہے کہ شبِ زفاف کی صبح کو اپنے دوست احباب عزیز و اقارب اور محلہ کے لوگوں کی حسب استطاعت ضیافت کرے اور اس کے لیے جانور ذبح کرنا اور کھانا طیار کرانا جائز ہے اور جو لوگ بلائے جائیں ان کو جانا چاہیے کہ ان کا جانا اس کے لیے مسرت کا باعث ہوگا۔ ولیمہ میں جس شخص کو بلایا جائے اس کو جانا سنت ہے یا واجب۔ علما کے دونوں قول ہیں، بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اِجابت سنت مؤکدہ ہے۔ 

    ولیمہ کے سوا دوسری دعوتوں میں بھی جانا افضل ہے اور یہ شخص اگر روزہ دار نہ ہو تو کھانا افضل ہے کہ اپنے مسلم بھائی کی خوشی میں شرکت اور اس کا دل خوش کرنا ہے اور روزہ دار ہو جب بھی جائے اور صاحب خانہ کے لیے دعا کرے اور ولیمہ کے سوا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأدب،باب إکرام الضیف...إلخ، الحدیث:۶۱۳۸،ج۴،ص۱۳۶. 

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق،الحدیث:۶۱۳۵،ج۴،ص۱۳۶.

3۔۔۔۔۔۔ ''سنن الترمذي''،کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء في الإحسان والعفو،الحدیث: ۲۰۱۳،ج۳،ص۴۰۵. 

4۔۔۔۔۔۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الأطعمۃ، باب الضیافۃ،الحدیث:۳۳۵۸،ج۴،ص۵۲.
Flag Counter