اور ایک روایت میں یہ ہے کہ ''جو شخص اﷲ(عزوجل)اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ صلہ رحمی کرے۔'' (1)
حدیث ۱۴: صحیح بخاری و مسلم میں ابو شریح کعبی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّمنے فرمایاکہ ''جو شخص اﷲ(عزوجل)اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ مہمان کا اکرام کرے، ایک دن رات اُس کا جائزہ ہے (یعنی ایک دن اس کی پوری خاطر داری کرے، اپنے مقدور بھر اس کے لیے تکلف کا کھانا طیار کرائے) اور ضیافت تین دن ہے (یعنی ایک دن کے بعد ماحضر پیش کرے)اور تین دن کے بعد صدقہ ہے، مہمان کے لیے یہ حلال نہیں کہ اس کے یہاں ٹھہرا رہے کہ اسے حرج میں ڈال دے۔'' (2)
حدیث ۱۵: ترمذی ابی الاحوص جشمی سے وہ اپنے والد سے ر وایت کرتے ہیں، کہتے ہیں:میں نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)یہ فرمائیے کہ میں ایک شخص کے یہاں گیا، اس نے میری مہمانی نہیں کی، اب وہ میرے یہاں آئے تو اس کی مہمانی کروں یا بدلا دوں۔ ارشاد فرمایا:''بلکہ تم اس کی مہمانی کرو۔''(3)
حدیث ۱۶: ابن ماجہ نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''سنت یہ ہے کہ مہمان کو دروازہ تک رخصت کرنے جائے۔'' (4)